
نئی دہلی، 16 جنوری (ہ س)۔ پٹیالہ ہاو¿س کورٹ کی پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انجو بجاج چندنا نے لال قلعہ دھماکہ کیس کے ملزم ڈاکٹر شاہین سعید سمیت چھ ملزمان کو 13 فروری تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔عدالت نے ڈاکٹر شاہین سعید کے ساتھ مفتی عرفان احمد، ظہیر بلال وانی عرف دانش، ڈاکٹر عادل احمد، یاسر احمد ڈار، اور ڈاکٹر مزمل شکیل کو عدالتی تحویل میں دینے کا حکم دیا۔ 14 جنوری کو عدالت نے ڈار کے علاوہ تمام ملزمین کو 16 جنوری تک قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں دے دیا۔ این آئی اے کی حراست ختم ہونے کے بعد انہیں آج عدالت میں پیش کیا گیا۔
این آئی اے نے دانش کو سری نگر سے گرفتار کیا۔ این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل راکٹ کو اسمبل کرنے کی کوشش کی۔ این آئی اے کے مطابق دانش نے عمر ان نبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو انجام دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق پولیٹیکل سائنس میں گریجویٹ دانش کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لیے برین واش کیا تھا۔ انہوں نے اکتوبر 2024 میں کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے پر اتفاق کیا، جہاں سے انہیں فرید آباد، ہریانہ میں الفلاح یونیورسٹی میں قیام کے لیے لے جایا گیا۔10 نومبر 2025 کو لال قلعہ کے قریب ایک i-10 کار میں دھماکہ ہوا۔ یہ گاڑی عامر رشید علی کے پاس رجسٹرڈ تھی۔ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan