
نئی دہلی/کازی پیٹ (تلنگانہ)، 15 جنوری (ہ س)۔
کازی پیٹ میں منعقدہ 58ویں سینئر نیشنل کھو-کھو چمپئن شپ کے سنسنی خیز فائنل میں ریلوے اسپورٹس پروموشن بورڈ (آر ایس پی بی) نے مردوں کا ٹائٹل جیتا، جبکہ مہاراشٹر نے خواتین کا ٹائٹل جیتا۔ ریلوے کی مردوں کی ٹیم نے مسلسل دوسری بار چمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ مہاراشٹر کی خواتین ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لگاتار پانچویں مرتبہ قومی اعزاز حاصل کیا۔
خواتین کے فائنل میں مہاراشٹر نے اوڈیشہ کو قریبی مقابلے میں 23-22 سے شکست دی۔ مردوں کے فائنل میں ریلوے نے مہاراشٹرا کو 26-21 سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ دونوں میچز نے تماشائیوں کو آخری لمحے تک سنسنی خیز بنائے رکھا۔
قابل ذکر ہے کہ ریلوے (مرد) اور مہاراشٹر (خواتین) نے اس سے قبل 31 مارچ سے 4 اپریل 2025 تک پوری، اوڈیشہ میں منعقدہ 57 ویں سینئر نیشنل کھو-کھو چیمپئن شپ جیتی تھی۔ اس بار بھی اوڈیشہ (خواتین) اور مہاراشٹر (مرد) کو چاندی کے تمغوں پر اکتفا کرنا پڑا۔
خواتین کے فائنل میں مہاراشٹر کی دفاعی حکمت عملی بہت مضبوط تھی۔ سندھیا سورواسے نے شاندار دفاعی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، میٹپر 2 منٹ 30 سیکنڈ تک رہیں۔ جبکہ کھو کھو ورلڈ کپ کی کپتان پرینکا انگل نے دفاع کو 2 منٹ تک تھام لیا اور اٹیک میں مجموعی طور پر 10 پوائنٹس بنائے۔ اڈیشہ کی ارچنا پردھان نے بھی شاندار دفاعی چالوں سے میچ کو مضبوط بنایا۔
مردوں کے فائنل میں مہاراشٹر کے پر تیک وائیکر نے شاندار دفاع کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1 منٹ 55 سیکنڈ تک میٹپر کھڑے رہے، جبکہ ریلوے کے ابھینندن پاٹل نے حملے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
چمپئن شپ کے انفرادی ایوارڈز میں مہاراشٹر کے پر تیک وائیکر کو بہترین محافظ اور ریلوے کے ابھینندن پاٹل کو مردوں کے زمرے میں بہترین اٹیکر قرار دیا گیا۔ خواتین کے زمرے میں اوڈیشہ کی ارچنا پردھان کو بہترین ڈفینڈراور مہاراشٹر کی پرینکا انگلے کو بہترین اٹیکر قرار دیا گیا۔
انڈین ریلوے کے رام جی کشیپ کو باوقار ایکلویہ ایوارڈ سے نوازا گیا، جب کہ اوڈیشہ کی سندھیا سرواسے کو رانی لکشمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ دونوں کھلاڑیوں کو اپنی اپنی کیٹیگریز میں بہترین آل راو¿نڈر بھی قرار دیا گیا۔
کھو-کھو فیڈریشن آف انڈیا (کے کے ایف آئی) کے صدر سدھانشو متل نے کہا، تلنگانہ میں منعقد ہونے والی 58ویں سینئر نیشنل کھو-کھو چیمپیئن شپ نے تنظیم، شرکت، اور کھیل کی سطح پر ہر پہلو میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ تماشائیوں میں توانائی اور جوش و جذبہ بے مثال تھا اور کھو کھو نے ایک جدید،ہای وولٹیج کھیل کے طو رپر اپنی شناخت مضبوط کی ہے۔
کے کے ایف آئی کے جنرل سکریٹری اپکار سنگھ ورک نے کہا، یہ چمپئن شپ واقعی یادگار رہی جس میں ملک بھر کی مختلف ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، اور اداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر شرکت کی گئی۔ تمام ٹیموں، کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو ان کی شاندار کارکردگی کے لیے مبارکباد۔
کے کے ایف آئی کے چیئرمین (تنظیم اور انتظامیہ) ڈاکٹر ایم ایس تیاگی نے جیتنے والی ٹیموں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایونٹ کھو کھو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور وقار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تلنگانہ کھو-کھو ایسوسی ایشن کے صدر جنگا راگھو ریڈی نے کہا، ''58ویں سینئر نیشنل کھو-کھو چمپئن شپ کی میزبانی کرنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔یہ واقعہ تلنگانہ میں کھیل کی مسلسل ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔
11 سے 15 جنوری تک منعقد ہونے والی اس باوقار چیمپئن شپ میں ملک بھر کی ٹیموں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کولہاپور نے مردوں کے زمرے میں تیسرا مقام حاصل کیا، جبکہ ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) نے خواتین کے زمرے میں تیسرا مقام حاصل کیا ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ