
ڈھاکہ، 15 جنوری (ہ س): بنگلہ دیش کرکٹ جمعرات کو ایک گہرے بحران میں ڈوب گئی، ملک کے کرکٹرز نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ڈائریکٹر ایم نظم الاسلام کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور تمام طرز کی کرکٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی۔ ان کے متنازعہ عوامی بیانات پر کھلاڑیوں میں بڑے پیمانے پر ناراضگی پائی جارہی ہے۔
مظاہروں کا براہ راست اثر بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) پر پڑا۔ میرپور کے شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں جمعرات کو ہونے والے میچ کے لیے چٹگرام رائلز اور نواکھالی ایکسپریس کے کھلاڑیوں نے میدان میں اترنے سے انکار کردیا۔ میچ دوپہر ایک بجے شروع ہونا تھا لیکن دونوں ٹیموں کے کھلاڑی نہ پہنچ سکے۔
ڈھاکہ میں ایک پریس کانفرنس میں، بنگلہ دیش کے آل راو¿نڈر مہدی حسن معراج نے نظم الاسلام کے تبصرے کو پوری کرکٹ کی دنیا کی بدنامی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری زیادہ تر آمدنی آئی سی سی اور اسپانسرز سے آتی ہے۔ آج بنگلہ دیش کی جرسی میں کھیلنے والے ہر کھلاڑی نے بورڈ کے فنڈز میں حصہ ڈالا ہے۔ اگر میچ نہ کھیلے جاتے تو نہ اسپانسرز اور نہ ہی آئی سی سی کو کوئی آمدنی ہوتی۔'
معراج نے یہ بھی واضح کیا کہ کھلاڑی اپنی آمدنی کا 25 سے 30 فیصد ٹیکس کے طور پر حکومت کو دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ حکومت ہمیں پیسے دیتی ہے، یہ درست نہیں ہے۔ ہماری تمام آمدنی میدان پر کھیلنے سے آتی ہے، اور ہم نمایاں ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔
پانچ اہم مسائل اٹھائے گئے-
* ڈھاکہ فرسٹ ڈویڑن کرکٹ میں جاری بحران
* خواتین کرکٹرز کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات پر بی سی بی کا موقف
* بی سی بی کے ڈائریکٹر ایم نظم الاسلام کے استعفیٰ کا مطالبہ
* خواتین کی کرکٹ کے لیے سہولیات اور مواقع سے متعلق مسائل
کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی ڈبلیو اے بی) کے صدر محمد متھن نے واضح وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا، ہم صرف ایک شرط پر میدان میں اتریں گے: بی سی بی 48 گھنٹوں کے اندر تحریری یقین دہانی کرائے کہ یہ شخص بورڈ میں نہیں رہے گا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو کرکٹرز کھیل میں خلل کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب نظم الاسلام نے سابق کپتان تمیم اقبال کو ’انڈین ایجنٹ‘ کہا۔ تمیم نے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ تعلقات میں جاری کشیدگی کو حل کرنے کے لیے بات چیت پر زور دیا تھا، خاص طور پر کولکاتا نائٹ رائیڈرز کی جانب سے مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ریلیز کیے جانے کے تناظر میں۔
اس ساری پیش رفت کے درمیان بی سی بی نے بھی ایکشن لیتے ہوئے نظم الاسلام کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ بورڈ کے بیان میں کہا گیا ہے، متعلقہ ڈائریکٹر کے خلاف باقاعدہ تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ انہیں 48 گھنٹوں کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جواب کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔
اس وقت بنگلہ دیش کرکٹ میں حالات کشیدہ ہیں اور آنے والے دنوں میں پورا ملک بی سی بی کے فیصلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی