
تہران،13جنوری(ہ س)۔ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار ایک نوجوان کو پھانسی دیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 26 سالہ عرفان سلطانی کو بدھ کے روز پھانسی دی جا سکتی ہے۔ایران ہیومن رائٹس اور نیشنل یونین فار ڈیموکریسی اِن ایران کے مطابق عرفان سلطانی کو گزشتہ ہفتے شہر کرج میں مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اہلِ خانہ کو بتایا گیا ہے کہ انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے جو ممکنہ طور پر 14 جنوری کو نافذ کی جائے گی۔بین الاقوامی میڈیا ’فاکس نیوز‘ کا کہنا ہے کہ عرفان سلطانی پر ایران میں قابلِ سزائے موت الزام ’خدا کے خلاف جنگ‘ عائد کیا گیا ہے۔ نیشنل یونین فار ڈیموکریسی کے مطابق انہیں وکیل تک رسائی بھی نہیں دی گئی اور ان کا واحد جرم آزادی کا مطالبہ کرنا تھا۔انسانی حقوق کے گروپس کے مطابق ایران میں خراب معاشی صورتحال کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران اب تک 10 ہزار سے زائد افراد گرفتار اور 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومتی سطح پر اطلاعات کی تصدیق مشکل ہے کیونکہ ملک میں مواصلاتی پابندیاں عائد ہیں۔ادھر امریکا نے ایران میں مظاہرین کے خلاف تشدد پر سخت ردِعمل کا عندیہ دیا ہے، وائٹ ہاوس کے مطابق تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan