عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کے اسٹال پر دو اہم ادبی پروگرام
نئی دہلی،12 جنوری(ہ س)۔ عالمی کتاب میلہ، نئی دہلی میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیر اہتمام آج دو اہم ادبی پروگراموں کا انعقاد عمل میں آیا۔ پہلا پروگرام ”اکیسویں صدی میں ہندوستانی تہذیب: اردو فکشن کے حوالے سے“ جبکہ دوسرا پروگرام ”بزمِ سخن“
عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کے اسٹال پر دو اہم ادبی پروگرام


نئی دہلی،12 جنوری(ہ س)۔ عالمی کتاب میلہ، نئی دہلی میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیر اہتمام آج دو اہم ادبی پروگراموں کا انعقاد عمل میں آیا۔ پہلا پروگرام ”اکیسویں صدی میں ہندوستانی تہذیب: اردو فکشن کے حوالے سے“ جبکہ دوسرا پروگرام ”بزمِ سخن“ کے نام سے منعقد ہوا۔ دونوں پروگراموں میں ادبی شخصیات، محققین، طلبہ اور شائقینِ ادب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ”اکیسویں صدی میں ہندوستانی تہذیب: اردو فکشن کے حوالے سے“ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں پروفیسر خالد اشرف، پروفیسر فاروق بخشی، پروفیسر ابو بکر عباد بطور پینلسٹ شریک ہوئے جبکہ ڈاکٹر عبدالرزاق زیادی نے اس مذاکرے کی نظامت کی۔ مذاکرے کے دوران مقررین نے اردو فکشن میں تہذیب و تمدن کی عکاسی، بدلتے سماجی رویوں اور عصری تقاضوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ پروفیسر خالد اشرف نے تہذیب و تمدن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی تہذیب کی بنیادی خصوصیت اس کی ہمہ گیری، رواداری اور ''جیو اور جینے دو'' کے جذبے میں مضمر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب نے وہ چیزیں بھی قبول کیں جو اس کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں تھیں اور یہی اس کی وسعت قلبی کی دلیل ہے۔ پروفیسر فاروق بخشی نے گلوبلائزیشن کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں اس کے کچھ فوائد ہیں وہیں سماج پر اس کے کچھ منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں، اور خاص طور پر ہماری تہذیب اس سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق افسانوں اور فکشن میں ہماری تہذیبی شناخت آج بھی مختلف رنگوں میں جلوہ گر ہے۔ خورشید عالم، ابن کنول اور ثروت خان وغیرہ کے فکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے یہاں ہندوستانی تہذیب اور ثقافت بھرپور انداز میں پیش کی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو فکشن نے ہمیشہ تہذیبی قدروں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پروفیسر ابو بکر عباد نے کہا کہ اگرچہ ایک وقت تھا جب ہندوستانی تہذیب مغربی تہذیب سے زیادہ متاثر نظر آتی تھی، لیکن موجودہ دور میں صورت حال کسی حد تک بدل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پریم چند، راشد الخیری اور دیگر افسانہ نگاروں کے یہاں ہندوستانی تہذیب، رسوم، رسمیات اور سماجی اقدار واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی نسل کے فکشن نگار ہندوستانی تہذیب کے حوالے سے سنجیدہ تخلیقی کارنامے انجام دے رہے ہیں۔

آج کا دوسرا پروگرام‘شام سخن’کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں جناب نعمان شوق، جناب احمد علوی، جناب شاہد انور، ڈاکٹر وسیم راشد، پروفیسر رحمن مصور، جناب ارشد ندیم، آلوک یادو شریک ہوئے۔ اس محفل میں شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ پیش ہیں منتخب اشعار:

ایسے ملے نصیب سے سارے خدا کہ بس

میں بندگی کے زعم میں چلا اٹھا کہ بس

(نعمان شوق)

کہنا ہے ڈاکٹر کا کہ شوگر کے روگ میں

ہر طرح کی مٹھاس سے خطرے میں جان ہے

ہندی میں لکھ کے لاتا ہوں میں اس لیے غزل

رس گلے سے بھی میٹھی اردو زبان ہے

(احمد علوی)

فن عروض کی راہیں دکھا کے آئی ہوں

تمام عمر میں اردو پڑھا کے آئی ہوں

(ڈاکٹر وسیم راشد)

اک دل خراش زخم تری یاد کی طرح

رہتا ہے مرےساتھ جو ہمزاد کی طرح

(ارشد ندیم)

نہ درد تھا نہ کرب تھا نہ پیاس بے مثال تھی

ترے بغیر زندگی کی کلپنا محال تھی

(رحمن مصور)

سانحہ ایک ہی لمحے کے لیے آتا ہے

عمرکٹ جائے گی وہ لمحہ بھلانے والے

(شاہد انور)

نئی نسلوں کے ہاتھوں میں بھی تابندہ رہے گا

میں مرجاو?ں گا مٹی میں قلم زندہ رہے گا

(آلوک یادو)

ایک سفر روز مرے ساتھ لگا رہتا ہے

کیا بدن ہے جو صحرا میں پڑا رہتا ہے

(عمیر منظر)

اس شعری نشست کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عمیر منظر نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande