
ممبئی، 12 جنوری (ہ س)۔ نوی ممبئی اور آس پاس کے علاقوں میں آن لائن سرمایہ کاری اور جعل سازی کے واقعات میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں مختلف متاثرین کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پولیس کے مطابق ان مقدمات میں نامعلوم افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ بیلاپور کے رہائشی 56 سالہ لون کنسلٹنٹ کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر 72 لاکھ 70 ہزار روپئے کی رقم ہتھیا لی گئی۔ نامعلوم افراد نے یو ایس ڈی ٹی کرپٹو کرنسی میں غیر معمولی منافع کا وعدہ کرتے ہوئے متاثرہ شخص سے رابطہ کیا۔ ملزمان نے اعتماد میں لے کر مئی 2024 سے دسمبر 2025 کے درمیان مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے مخصوص کھاتوں میں بڑی رقوم منتقل کروائیں۔ بعد میں جب نہ تو منافع ملا اور نہ ہی سرمایہ کاری پلیٹ فارم تک رسائی ممکن رہی، تو متاثرہ شخص نے پولیس سے رجوع کیا۔اس شکایت پر پولیس نے پانچ نامعلوم ملزمان اور تین ویب پلیٹ فارمز کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 318(4)، 319(2) اور 3(5) کے تحت، نیز انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔اسی طرح نوی ممبئی میں ایک اور کیس میں ایک ایچ آر منیجر کو آن لائن شیئر ٹریڈنگ فراڈ میں 36 لاکھ 74 ہزار روپئے کا نقصان ہوا۔ نیرول پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق ایک خاتون نے متاثرہ شخص سے رابطہ کر کے خود کو سیبی سے منسلک کمپنی کی نمائندہ بتایا اور اسے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، جہاں منافع بخش شیئر ٹریڈنگ اسکیموں کا دعویٰ کیا گیا۔ابتدائی طور پر متاثرہ شخص کو 50 ہزار روپئے منافع کے طور پر موصول ہوئے، جس کے بعد اس نے مزید سرمایہ کاری کی۔ اگست اور ستمبر 2025 کے دوران اس نے کل 36 لاکھ 74 ہزار روپئے جمع کروائے، مگر جب رقم نکالنے کی کوشش کی گئی تو رسائی روک دی گئی۔ بعد ازاں اسے فراڈ کا اندازہ ہوا اور پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں بھی نامعلوم افراد کے خلاف دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے