
تہران/واشنگٹن، 11 جنوری (ہ س)۔ ایران میں گزشتہ 28 دسمبر سے مہنگائی کے خلاف شروع مظاہرے نے شدت اختیار کر لی ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مظاہرین کو بلوائی کہنے سے لوگوں کا غصہ بھڑک گیا ہے۔ پورا ملک تشدد کی لپٹوں سے گھرا ہوا ہے۔ سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے درمیان ٹکراو میں بڑے پیمانے پر جان و مال کا نقصان ہوا ہے۔ کئی جگہوں پر سرکاری املاک کو آگ کے حوالے کر دیا گیا۔ فائرنگ میں مارے گئے لوگوں کے تئیں تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو خامنہ ای سے آزاد کرانے کا اشارہ دیا ہے۔
ایران انٹرنیشنل نے مختلف ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر نشر رپورٹ میں ایران کی موجودہ صورتحال کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران کی سیکورٹی فورسز ملک بھر میں مظاہرین پر جان لیوا طاقت کا استعمال کر رہی ہیں۔ ابتدائی اندازہ ہے کہ بڑے پیمانے پر لوگ مارے گئے ہیں۔ ملک میں 8 جنوری سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔ تہران کے جنوب میں کہریزاک سے موصول ویڈیو فوٹیج میں کئی لاشیں نظر آرہی ہیں۔ ایسے ہی ویڈیو فردیس، کرج اور مشرقی تہران کے الغدیر اسپتال سے پہلے بھیجے گئے۔ ان میں بھی لاشیں نظر آ رہی ہیں۔ ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں کم از کم 2,000 لوگ مارے گئے ہیں۔ شمالی شہر رشت کے ایک ڈاکٹر کے مطابق، اکیلے ایک اسپتال میں کم از کم 70 لاشیں پہنچائی گئیں۔ ایلام اور کرمانشاہ کے مغربی صوبے بھی تشدد سے گھرے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، عوامی غصے کو قبول کرنے یا لوگوں سے بات چیت کرنے کے بجائے ایران کی قیادت نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے سخت رخ اپنایا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن میں کہا جا رہا ہے کہ صورتحال پوری طرح سے کنٹرول میں ہے۔ جمعہ کو سرکاری ٹیلی ویژن میں تو لوگوں کو دھمکی تک دی گئی۔ والدین سے کہا گیا، ’’اگر وہ اپنے بچوں کی حفاظت کی پرواہ کرتے ہیں تو انہیں سڑکوں سے دور رکھیں۔‘‘ ایران کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینلوں میں سے ایک چینل-3 نے بدامنی کو ملک پر ایک منصوبہ بند حملہ بتایا ہے۔ بنیادی شہری حقوق کی مانگ کرنے والے مظاہرین کی مذمت کی گئی۔ تصویروں میں سیکورٹی فورسز کو بھیڑ پر آنسو گیس کے گولے داغتے اور گولیاں چلاتے ہوئے دکھایا گیا۔ تہران کے میئر علی رضا زکانی نے کہا کہ راجدھانی میں مظاہرین نے درجنوں بسوں اور سرکاری عمارتوں میں آگ لگا دی۔ یہ مظاہرین نہیں ’’دہشت گرد‘‘ ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے گزشتہ روز سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا پورے دن خطاب نشر کیا۔ خامنہ ای نے مظاہرین پر غیر ملکی دشمنوں کی طرف سے کام کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے طاقت سے نمٹنے کی قسم بھی کھائی۔ کچھ چینلوں پر صرف مظاہرین کے تشدد کو دکھایا گیا۔
لوگوں کا غصہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ حکومت کی گڑھی گئی علامتوں تک کو تہس نہس کرنے پر آمادہ ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سابق اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور کے قدس فورس کمانڈر قاسم سلیمانی کے مجسمے گرا دیے گئے ہیں۔
ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے۔ امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔ یہ بات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ کی رات اپنے ٹروتھ سوشل اکاونٹ پر ایک پوسٹ میں کہی۔ اس سے پہلے دن میں ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی ایک پوسٹ کو ری پوسٹ کیا۔ اس میں انہوں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مظاہرین کی حمایت کرنے کی تعریف کی اور ’’میک ایران گریٹ اگین‘‘ کا نعرہ استعمال کیا۔ گراہم نے کہا تھا، ’’مدد آ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ ایران کو آزاد کرانے کے لیے تیار ہیں۔ ایران کے لوگوں کا آزادی کا خواب جلد پورا ہوگا۔‘‘ اس کے علاوہ امریکی ہاوس ریپریزینٹیٹو کلاوڈیا ٹینی نے کہا، ’’براہ کرم ایران میں ایک پرتشدد حکومت کے خلاف کھڑے بہادر مردوں اور خواتین کے لیے میرے ساتھ دعا کریں۔‘‘ نیویارک کی ریپبلکن نمائندہ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا، ’’ایک ظالم ڈکٹیٹر کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہرہ کرنے پر خاندان اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو کھو رہے ہیں۔ یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں۔ خاموشی صرف قاتلوں کو طاقت دیتی ہے۔‘‘
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، لفتھانسا، فلائی دبئی، ٹرکش ایئرلائنز، ایجیٹ، پیگاسس، قطر ایئر ویز اور آسٹرین ایئرلائنز سمیت کئی ایئرلائنز نے ایران کے لیے اپنی پروازیں منسوخ اور ملتوی کر دی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن