
خرطوم،11جنوری(ہ س)۔سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی کے جاری رہنے کے دوران اقوامِ متحدہ نے ایک بار پھر انسانی صورتحال کے بگڑنے سے خبردار کیا ہے۔اقوامِ متحدہ سے وابستہ انسانی تنظیموں نے بتایا ہے کہ تقریباً 21 ملین سوڈانی شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ 20 ملین سے زائد افراد کو فوری طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ یہ بات جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) کے ترجمان ینس لیرک نے تصدیق کی کہ شہری روزانہ ایسی جنگ کی قیمت چکا رہے ہیں ،جو انہوں نے خود نہیں چنی۔ ادھر اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 13اعشاریہ6 ملین سوڈانی اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جن میں سے 4اعشاریہ3 ملین سے زائد افراد سرحدوں کے پار پناہ لینے پر مجبور ہوئے،جس سے پڑوسی ممالک پر بھاری بوجھ پڑ رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کے مطابق اپریل 2023 میں تنازع کے آغاز سے اب تک روزانہ تقریباً 5 ہزار بچے بے گھر ہو رہے ہیں۔یونیسف کے نمائندے ریکارڈو پیریز نے کہا:بہت سے افراد کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں، اور جہاں بھی پناہ لیتے ہیں، تشدد ان کا پیچھا کرتا ہے۔انسانی صورتحال عالمی سطح پر امدادی فنڈز کے بحران کے باعث مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، کیونکہ گزشتہ سال درکار 4اعشاریہ2 ارب امریکی ڈالر میں سے عطیہ دہندگان نے صرف 36 فیصد رقم فراہم کی۔اس کے نتیجے میںاوچا تقریباً 34 ملین محتاج افراد میں سے صرف 20 ملین کو ہی انسانی امداد فراہم کر سکا۔اسی تناظر میں لیرک نے فوری طور پر جنگ بندی، پائیدار امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔یہ تنازع جو اپریل 2023 میں شروع ہوا اور اب اپنے ہزارویں دن میں داخل ہو چکا ہے، اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی قحط کی صورتحال اور زبردستی بے دخلی کی سب سے بڑی لہر کا سبب بن چکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan