
واشنگٹن، 11 ستمبر (ہ س)۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چین کے تارکین وطن پیشہ ور افراد کو ڈیٹا سسٹم اور اندرونی میٹنگوں جیسی سہولیات تک رسائی پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ناسا کے ترجمان بیتھنی اسٹیونز نے بدھ کے روز اس حکم کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم چین کے اداروں کے ساتھ باضابطہ تعاون پر دیرینہ پابندیوں سے بالاتر ہے اور گریجویٹ طلبا ، یونیورسٹی کے سائنسدانوں اور ٹھیکیداروں جیسے ان افراد کوبھی نشانہ بناتا ہے جنہوں نے پہلے امریکی خلائی منصوبوں میں تعاون کیا ہے۔ اسٹیونس نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد ”ہمارے کام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔“
دریں اثنا، بلومبرگ کے مطابق، 5 ستمبر کو چینی شہریوں کی ناسا کےسسٹمزاور میٹنگوں تک جسمانی اور ڈیجیٹل رسائی ختم ہو گئی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ امریکہ اور چین انسان بردار چاند کے مشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ناسا کا ہدف 2027 اور بیجنگ کا ہدف 2030 ہے۔
دوسری جانب ناسا کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر شان ڈفی نے چین کے خلائی پروگرام کو فوجی آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’چین کو خلائی دوڑ میں شکست دینا‘ بہت ضروری ہے۔ ڈفی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ”خلا کو نہیں چھوڑ سکتا“۔
قابل ذکر ہے کہ یہ فیصلہ چاند کی تحقیق میں امریکہ کو آگے رکھنے کے لئے امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباو¿ کے ساتھ آیا ہے۔ سینیٹرز ٹیڈ کروز اور ماریا کینٹ ویل نے الزام عائد کیا ہے کہ چاند پر مستقل طور پر قدم جمانے کے چین کے عزائم بہت زیادہ اسٹریٹجک داو¿ پر ہیں۔ انہوں نے اس مسابقت کو علامتی وقار سے بڑھ کر پیش کیا۔
دریں اثنا، پالیسی ماہرین نے اس سلسلے میں تجاوزات کے خطرات سے خبردار کیا۔ یونین آف کنسرنڈ سائنٹسٹس کے گریگوری کولاکی نے کہا کہ زمین کے نچلے مدار میں بھیڑ کے لئے تعاون کی ضرورت ہے، جب کہ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ڈینس سائمن نے پابندی کی تنقید کرتے ہوئے اسے ”چین مخالف گمراہی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ٹیلنٹ کو نکال کر امریکی سائنسی اختراع کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ پابندیاں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ’چائنا انیشی ایٹو‘ سے متعلق متنازعہ پروگرام کو بحال کرنے کی کوششوں کے عین مطابق ہیں۔ یہ ایک ایسا پروگرام تھا جسے نسلی امتیاز کے الزامات کے بعد 2022 میں روک دیا گیا تھا۔ کچھ سینیٹرز نے اس حکم کو چین کی ناسا تک رسائی کو محدود کرنے کا قدم قرار دیا ہے جب کہ کچھ ڈیموکریٹک سینیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام شہری حقوق اور سائنسی تبادلے کے لیے ایک دھچکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد