بھوپال، 31 اگست (ہ س)۔
بھارتیہ جنتا پارٹی مہیلا مورچہ مدھیہ پردیش میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے متنازعہ بیان پر جارحانہ ہو گئی ہے۔ اتوار کو راجدھانی بھوپال میں مہیلا مورچہ کے کارکنوں نے راہل گاندھی شویاترا نکال کر علامتی احتجاج کیا۔ بی جے پی مہیلا مورچہ کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کے وزیر اعظم نریندر مودی کی والدہ کے خلاف نازیبا الفاظ سے خواتین کو تکلیف پہنچی ہے۔ اس احتجاج میں بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال، ریاستی تنظیم کے جنرل سکریٹری ہیتا نند شرما، مہیلا مورچہ کی ریاستی صدر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ مایا نرولیا اور بی جے پی ضلع صدر رویندر یتی نے بھی شرکت کی۔
مظاہرے کے لیے بی جے پی مہیلا مورچہ کے کارکنان کی بڑی تعداد اتوار کی صبح بھوپال کے ریڈ کراس چوراہا پر جمع ہوئی اور نعرے بازری کرتی ہوئیں کانگریس دفتر کی طرف بڑھنے لگیں۔ اس دوران پولیس نے سدھانتا اسپتال کے سامنے بیریکیڈنگ کرکے انہیں روک دیا۔ جس کے بعد مہیلا مورچہ کے کارکنوں نے وہاں موجود بیریکیڈنگ کو توڑ کر اس میں آگ لگا دی۔ اس دوران مورچہ کے کارکنوں نے راہل گاندھی کے خلاف نعرے بازی کی۔
بی جے پی مہیلا مورچہ کی ریاستی صدر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ مایا نرولیا نے کہا کہ خواتین کی توہین اب برداشت نہیں کی جائے گی۔ کیا خواتین سیاست اور دیگر شعبوں میں توہین برداشت کرنے کے لئے کام کرتی ہیں ہیں؟ ہم راہل گاندھی سے پوچھنا چاہتے ہیں، کیا آپ کے گھر میں بہنیں اور بیٹیاں نہیں ہیں؟ کیا آپ اسی طرح ماوں بہنوں کی توہین کرتے رہیں گے؟ راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی کو تنبیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب خواتین بیدار ہو چکی ہیں اور اگر کانگریس اب بھی ہوش میں نہیں آئی تو کانگریس کے پاس جو کچھ بچا ہے وہ بھی پوری طرح تباہ ہو جائے گا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ راہل گاندھی عوامی سطح پر معافی مانگیں اور آئندہ کسی خاتون کی توہین نہ کریں۔ بی جے پی میں خواتین کو جو عزت، تحفظ، عزت نفس اور مساوی حقوق دیے گئے ہیں وہ کسی اور پارٹی میں نہیں ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن