تبادلے میں سیاسی مداخلت سے ہائی کورٹ ناراض
جبل پور، 29 اگست (ہ س)۔ ہائی کورٹ نے مدھیہ پردیش کے شہڈول ضلع میں گرام پنچایت سکریٹریوں کے بڑے پیمانے پر تبادلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ دراصل 13 جون 2025 کو ضلع پنچایت کے سی ای او نے 81 پنچایت سکریٹریوں کا تبادلہ کیا تھا۔ جب نوٹ شیٹ وائرل ہوئ
تبادلے میں سیاسی مداخلت سے ہائی کورٹ ناراض


جبل پور، 29 اگست (ہ س)۔

ہائی کورٹ نے مدھیہ پردیش کے شہڈول ضلع میں گرام پنچایت سکریٹریوں کے بڑے پیمانے پر تبادلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

دراصل 13 جون 2025 کو ضلع پنچایت کے سی ای او نے 81 پنچایت سکریٹریوں کا تبادلہ کیا تھا۔ جب نوٹ شیٹ وائرل ہوئی تو انکشاف ہوا کہ ان تبادلوں کے پیچھے مقامی رکن اسمبلی، رکن پارلیمنٹ، ڈپٹی چیف منسٹر، شہر صدر اور یہاں تک کہ ضلع صدر کی سفارشات درج تھیں۔ جب کہ اس قاعدے کے حوالے سے سوال یہ پیدا ہوا کہ جب ٹرانسفر پالیسی 2025 کے تحت صرف انچارج وزیر کی منظوری ضروری ہے تو پھر دیگر رہنماوں کی سفارشات کو کس بنیاد پر قبول کیا گیا۔

شہڈول کے رہنے والے درگا پرساد تیواری نے اس معاملے پر ایک مفاد عامہ عرضی دائر کی اور اسے ہائی کورٹ میں لے گئے۔ ایڈوکیٹ بھرت کمار دوبے اور سنندا ​​کیسروانی نے ان کی طرف سے دلیل دی کہ سفارشات کی بنیاد پر تبادلے غلط ہیں اور اس سے بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے۔ عدالت نے اس کا نوٹس لے لیا۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن اسمبلی، رکن پارلیمنٹ اور پارٹی عہدیدار ہی تبادلے کرا رہے ہیں تو انہیں انتظامیہ اور عدالت میں بھی بٹھا دیں۔ ہائی کورٹ نے اس حکم پر فی الحال روک نہیں لگائی، لیکن حکومت، شہڈول کلکٹر اور ضلع پنچایت کے سی ای او سے جواب طلب کیا ہے۔

کیس کی اگلی سماعت 22 نومبر کو ہوگی جس میں حکومت کو پورے معاملے پر وضاحت دینا ہوگی۔ مذکورہ برہمی گزشتہ روز ہی عدالت میں دیکھنے کو ملی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande