بھوپال، 29 اگست (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے بھنڈ ضلع کے بی جے پی لیڈر نریندر سنگھ کشواہا اور ضلع کلکٹر سنجیو شریواستو کے درمیان حالیہ تنازعہ نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ بی جے پی لیڈر اور افسر کے درمیان ہاتھا پائی اور گرما گرم بحث نے اپوزیشن کو ایک مدعا دے دیا ہے اور عوام میں بی جے پی کی بدنامی بھی ہورہی ہے۔ ایسے میں اس واقعہ کے بعد پارٹی ہائی کمان نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جمعہ کو تنظیم نے بھنڈ کے رکن اسمبلی نریندر سنگھ کشواہا کو بھوپال طلب کیا۔
اس سلسلے میں موصولہ اطلاع کے مطابق وہ ریاستی انچارج، تنظیم جنرل سکریٹری اور ریاستی صدر کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ تینوں لیڈروں نے ان کی کونسلنگ کی اور رکن اسمبلی کی سخت سرزنش کی گئی۔ بی جے پی قیادت نے انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ عوامی نمائندے کے وقار کو برقرار رکھیں اور اپنے طرز عمل کو بہتر بنائیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال کی کال پر نریندر کشواہا جمعہ کو تنظیم کے جنرل سکریٹری ہیتا نند شرما کے بنگلے پہنچے۔ یہاں ریاستی انچارج ڈاکٹر مہیندر سنگھ کی موجودگی میں پورے واقعہ پر بات چیت ہوئی۔ ہیتا نند شرما کی رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ میں ریاستی قیادت نے رکن اسمبلی کے رویے کو سنگین سمجھا ہے۔ رکن اسمبلی کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا گیا کہ آپ کا رویہ پارٹی لائن کے خلاف ہے، اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آئندہ ایسا رویہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کشواہا 27 اگست کو اپنے حامیوں کے ساتھ کلکٹر کے بنگلے پر کسانوں کے لیے کھاد کی کمی کی شکایت کرنے پہنچے۔ بات چیت کے دوران کلکٹر کے ذریعہ انگلی اٹھانے پر رکن اسمبلی غصے میں آگئے اور انہوں نے کلکٹر کو ’’چور‘‘ تک کہہ دیا۔ اس کے بعد ان کے حامیوں نے ’’بھنڈ کلکٹر چور ہے‘‘ کے نعرے لگائے۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب رکن اسمبلی نے کلکٹر پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی جسے سیکورٹی اہلکاروں نے روک دیا۔ اس جھگڑے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے وائرل ہوا۔ اس واقعے نے نہ صرف بھنڈ کی سیاست کو گرما دیا بلکہ بی جے پی کے لیے ناخوشگوار صورتحال بھی پیدا کر دی۔
اس واقعہ کے بعد ریاستی بی جے پی قیادت نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا۔ ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال، ریاستی انچارج مہندر سنگھ اور تنظیم کے جنرل سکریٹری ہیتا نند شرما نے رکن اسمبلی نریندر سنگھ کشواہا کو بھوپال بلایا اور انہیں سخت سرزنش کی۔ پارٹی ہائی کمان نے اس پورے معاملے پر رکن اسمبلی سے وضاحت طلب کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن