اردو اکادمی ، دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے جاری ،ڈراما الفاظ سے زیادہ پیشکش کا نام ہے: پروفیسر شاہینہ تبسم
نئی دہلی،28اگست(ہ س)۔اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام آج اردو ڈراما مقابلہ برائے مڈل زمرہ (چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت) کا انعقاد ہوا، جس میں 16 اسکولوں کے112 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات
اردو اکادمی ، دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے جاری ،ڈراما الفاظ سے زیادہ پیشکش کا نام ہے: پروفیسر شاہینہ تبسم


نئی دہلی،28اگست(ہ س)۔اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام آج اردو ڈراما مقابلہ برائے مڈل زمرہ (چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت) کا انعقاد ہوا، جس میں 16 اسکولوں کے112 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات دیے جاتے ہیں، جبکہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی انعامات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سب سے زیادہ شرکت کرنے والے اسکول کو ”بہترین شرکت کرنے والا اسکول“ (Best Participating School) اور سب سے زیادہ انعامات حاصل کرنے والے اسکول کو ”بہترین کارکردگی کا حامل اسکول“ (Best Performing School) کی ٹرافی اور نقد انعامات سے نوازا جاتا ہے۔مقابلے کے ججز پروفیسرشاہینہ تبسم اورڈاکٹر جاوید حسن تھے۔ مقابلہ کے بعدڈاکٹر جاوید حسن نے سبھی ڈراموں پر تفصیلی گفتگو کی ، کس ڈرامے میں کس چیز کی ضرورت تھی اور کس کی نہیں اس کی بارکیوں پر بات کی ۔ نیز انھوں نے کہا کہ ڈار مے کا لازمی جز ایکشن ہوتا ہے نہ کہ نریشن ۔ آپ اداکاری میں فطری پن لانے کی کوشش کریں تاکہ حقیقی عکاسی ہوسکے ۔ ان کے بعد پروفیسر شاہینہ تبسم نے اظہار خیال کرتے ہوئے بچوں سے کہا کہ جوبھی کام کریں وہ ذمہ داری اور لگن سے کریں ، کیونکہ مستقبل میں آپ کو یہی چیزیں کامیابی تک لے جائیںگی اور اداکاری میں اس کی بہت ہی زیادہ ضرورت ہے ۔ آج آپ لوگوں نے جن بھی موضوعات پر ڈرامے پیش کیے وہ سبھی وقت حاضر کے مسائل ہیں ۔ ڈراما الفاظ سے زیاد ہ پیش کش کا نام ہوتا ہے اس لیے ان باریکیوں کا بہت ہی زیادہ خیال رکھیں ۔ واضح رہے کہ آج کے مقابلے میں ”جدید ٹکنا لوجی کے تحفے ، بیمار دلی ، جی آیا صاحب ، وقت کا پہیا ، رانی جھانسی ، دھرتی ماں کی پکار ، درخت بچائیں زندگی بچائیں ، کپڑوں کی دعوت ، تعلیم کی اہمیت ، آزاد بھارت، موبائل کے نقصانات، کیا میں نے غلط کہا، شمولیاتی تعلیم ، شادی ایک سودا، آئینہ¿ مستقبل اور صافت ستھرا ہندوستان “جیسے عنوانا ت پر ڈرامے پیش کیے گئے۔ججیز کے فیصلے کے مطابق اول انعام کے لیے ہمدرد پبلک اسکول، سنگم وہار(آزاد بھارت) اور ڈاکٹر ذاکرحسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد (درخت بچائیں زندگی بچائیں) کو منتخب کیا گیا۔ دوسرے انعام کے لیے سروودیہ کنیا ودیالیہ، نورنگر(جدید ٹیکنالوجی کے تحفے) اور تیسرے انعام کے لیے جامعہ مڈل اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ (کیامیں نے غلط کہا) کو منتخب کیا گیا جب کہ حوصلہ افزائی انعام سیدعابد حسین سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ (شمولیاتی تعلیم)دیا گیا ۔

ٹیموں کے انعامات کے علاوہ بہترین کارکردگی کی بنیاد پر انفرادی انعام کے لیے ریّان چوہان ولد مشکور(گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول، تخمیرپور)،مشیت زہرہ بنت ظفرحسین(کریسنٹ اسکول، موجپور)تمنا بنت شاہنواز (شفیق میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، باڑا ہندوراﺅ)،فیضان خان ولد صداقت علی (سیدعابدحسین سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ)،طٰہٰ توصیف ولد توصیف احمد بھٹ(جامعہ مڈل اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ)انزلا عرفان بنت محمد عرفان (جامعہ مڈل اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ)،حورین بنت جاوید عالم (راجدھانی پبلک سینئر سیکنڈری اسکول، شیووہار)عائزہ بنت محمد عبد(ہمدرد پبلک اسکول، سنگم وہار)،امان ضیا بنت سعد اختر (کریسنٹ اسکول، دریا گنج۔،ماہم فاطمہ بنت نورمحمد(سروودیہ کنیا ودیالیہ دیانند روڈ، دریا گنج)زرتسمیہ بنت عمران (ڈاکٹر ذاکر حسین سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد)،فضیل اقبال ولد عادل اقبال(نیوہورائزن، اسکول، نظام الدین)،موذرین کائنات بنت محمد عمر (سروودیہ کنیا ودیالیہ، اندرلوک) کو منتخب کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande