جموں اور سانبہ میں سیلابی ریلوں کے بعد امدادی کاروائیاں جاری
جموں اور سانبہ میں سیلابی ریلوں کے بعد امدادی کاروائیاں جاری جموں، 28 اگست (ہ س)۔ جموں و سانبہ اضلاع میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی اور بحالی آپریشن جاری ہے۔ سینکڑوں دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ درجنوں مقامات پر م
Flood


جموں اور سانبہ میں سیلابی ریلوں کے بعد امدادی کاروائیاں جاری

جموں، 28 اگست (ہ س)۔

جموں و سانبہ اضلاع میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی اور بحالی آپریشن جاری ہے۔ سینکڑوں دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ درجنوں مقامات پر مٹی کے تودے گرنے اور پانی کے ریلوں نے تباہی مچا دی۔ جمعرات کو مزید چار افراد پانی میں بہہ گئے، جس کے بعد خطے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 45 تک جاپہنچی ہے۔ سب سے زیادہ جانی نقصان ویشنو دیوی یاترا روٹ پر پیش آئے مہلک لینڈ سلائیڈ میں ہوا جہاں اب تک 34 افراد کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

حکام کے مطابق اب تک 12 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ دریا توی، چناب، بسنتر، راوی اور اوجھ کی سطحِ آب میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، پچاس سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ اب بھی منقطع ہے اور درجنوں سڑکیں لینڈ سلائیڈز کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں نشیبی علاقوں سے ملبہ، کیچڑ اور پھنسے ہوئے گاڑیوں کو ہٹانے میں مصروف ہیں۔جمعرات کو مختلف مقامات سے مزید لاشیں برآمد ہوئیں،ایک لاش نگروٹہ میں دریائے توی سے، ایک بزرگ کی لاش مر علاقے کے نالے سے، ایک لاش آر ایس پورہ کے کرکھولا علاقے میں بارڈر فینسنگ کے قریب جبکہ ایک اور لاش بڑی برہمنہ کے تیلی بستی سے ملی۔ اس کے علاوہ پرگوال سے ایک بی ایس ایف اہلکار کی لاش اور اکھنور سے ایک نامعلوم لاش بھی برآمد کی گئی، جبکہ لکھن پور (پنجاب بارڈر کے قریب) سے محکمہ آبپاشی کے ملازم کی لاش نکالی گئی۔

ریاسی ضلع میں اردھکُواری کے نزدیک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اب تک 34 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جن میں 14 خواتین بھی شامل ہیں۔ جبکہ بیس سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔بارشوں سے انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ کئی پُل ٹوٹ گئے، مکانات اور تجارتی ادارے تباہ ہوگئے۔ شمالی ریلوے نے 58 ٹرینیں منسوخ کرنے کے بعد خصوصی ٹرینوں کے ذریعے دو ہزار سے زائد پھنسے مسافروں کو جموں سے نکالا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 14 اگست کو کشتواڑ کے چشوتی گاؤں میں بادل پھٹنے سے تباہ کن سیلاب آیا تھا، جس میں کم از کم 65 افراد لقمۂ اجل بنے، سو سے زائد زخمی ہوئے اور 32 تاحال لاپتہ ہیں۔پولیس و انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین کی فوری بحالی، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande