مودی جی کو ٹرمپ سے محبت، لیکن ٹرمپ نکلے بے وفا: سنجے سنگھ
نئی دہلی، 31 جولائی(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے امریکہ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف لگانے اور اس کے نتیجے میں شیئر بازار کے گرنے سے بھارتی سرمایہ کاروں کو ہونے والے بھاری نقصان پر وزیر اعظم نریندر مودی پر
مودی جی کو ٹرمپ سے محبت، لیکن ٹرمپ نکلے بے وفا: سنجے سنگھ


نئی دہلی، 31 جولائی(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے امریکہ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف لگانے اور اس کے نتیجے میں شیئر بازار کے گرنے سے بھارتی سرمایہ کاروں کو ہونے والے بھاری نقصان پر وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی کی ٹرمپ سے محبت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے، جب کہ ٹرمپ بے وفا نکلے۔ ٹرمپ بھارت پر روس سے سستا تیل نہ خریدنے کے لیے دبا بنا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا ہے کہ بھارت کی معیشت مردہ ہے۔ امریکہ اب پاکستان میں تیل تلاش کر رہا ہے، جسے بھارت کو بیچے گا۔ پی ایم مودی اپنے دوست اڈانی کو بچانے کے لیے ملک کی معیشت کو تباہی کی جانب لے جا رہے ہیں۔ مودی سرکار کو ملک کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ بھارت کی معیشت کو بچانے کے لیے اس کی کیا حکمت عملی ہے؟ سنجے سنگھ نے کہا کہ یہ اُن سرمایہ کاروں کے ساتھ دھوکہ ہے، جو اپنی محنت کی کمائی شیئر بازار میں لگاتے ہیں۔ سنسیکس میں 800 پوائنٹس کی بھاری گراوٹ آئی ہے۔ وزیر اعظم مودی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لاکھوں کروڑ روپے ڈوب رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی ٹرمپ سے محبت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ، جب کہ ٹرمپ اب پاکستان سے محبت کے دعوے کر رہے ہیں۔ ٹرمپ دباو ڈال رہے ہیں کہ بھارت روس سے سستا تیل نہ خریدے، جب کہ روس بھارت کا دیرینہ دوست ہے۔ روس نے اقوام متحدہ میں چھ مرتبہ ویٹو پاور کا استعمال کر کے بھارت کا ساتھ دیا ہے، جنگ کے وقت مدد فراہم کی اور سستا تیل بھی مہیا کرایا۔ اب امریکہ بھارت کو ایسے دوست ملک سے سستا تیل خریدنے سے روک رہا ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ ٹرمپ دباو ڈال کر بھارت کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ اس کا زبردست انداز میں جواب دیں۔ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف بڑھانے کے فیصلے پر بھارت سرکار کو اپنا سخت موقف ظاہر کرنا چاہیے اور اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ روس سے سستا تیل بھارت کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، جو ہم دوسرے ممالک کو بھی سستے داموں میں فراہم کرتے ہیں۔ بھارت کو اپنی ترجیحات اور معیشت کو مضبوط کرنے والے وسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے بھارت کی معیشت کو مردہ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں تیل تلاش کر رہا ہے اور وہ تیل بھارت کو فروخت کیا جائے گا۔ یہ بھارت کے لیے ایک خطرناک منصوبہ ہے۔ وقت رہتے مودی سرکار کو سامنے آ کر بتانا ہوگا کہ معیشت کو بچانے کے لیے ان کے پاس کیا حکمت عملی ہے اور حکومت کیا اقدامات اٹھائے گی؟سنجے سنگھ نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان پر ہم نے آج پارلیمنٹ میں قاعدہ 267 کے تحت نوٹس دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ پارلیمنٹ میں آئیں اور بتائیں کہ ٹرمپ کے ٹیرف اور بیانات کا کیسے مقابلہ کیا جائے گا؟ ملک کی عوام کو ایک سمت دینی چاہیے۔ ایسے وقت میں وہ عوام کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔ شیئر بازار میں 800 پوائنٹس کی گراوٹ سے سرمایہ کاروں کے لاکھوں کروڑ روپے ڈوب گئے۔ ایسے وقت میں مودی سرکار پیٹھ دکھا کر بھاگ جاتی ہے، کیونکہ وزیر اعظم کو ٹرمپ سے دوستی نبھانی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کے ایک دوست کا امریکہ میں کوئی معاملہ پھنسا ہوا ہے، جس کے سبب ٹرمپ بار بار دباوبنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ آخر میں سنجے سنگھ نے مرکز کی آبی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ان منصوبوں میں بدعنوانی نہ ہو اور یہ منصوبے افتتاح سے پہلے ہی ٹوٹ نہ جائیں۔ ان کی تعمیر میں کتنا وقت لگے گا، حکومت کو یہ بات صاف طور پر بتانی چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande