غزہ ،03؛اپریل :۔
فلسطینی تنظیم حماس نے کل بدھ کے روز اسرائیل کی اس حالیہ تجویز کو مسترد کر دیا جو فریقین کے بیچ جاری بالواسطہ مذاکرات میں پیش کی گئی۔ مذاکرات کا مقصد غزہ کی پٹی میں فائر بندی کا دوبارہ آغاز اور اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی آزادی ہے۔ یہ بات حماس کے دو ذمے داران نے ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتائی۔
مذکورہ ذمے داران میں سے ایک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حماس نے وساطت کاروں کے ذریعے پیش کی گئی اسرائیل کی حالیہ تجویز پر جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے کہ قابض قوت مصری قطری تجویز کو ناکام بنا کر کسی بھی سمجھوتے کو سبوتاڑ کرنا چاہتی ہے ۔
دوسری جانب حماس کے ایک رہنما نے بتایا ہے کہ تنظیم وساطت کاروں اور عالمی برادری سے اپیل کر رہی ہے کہ قابض حکام سے اس چیز کے احترام کی پاسداری کرائے جس پر اس نے دستخط کیے اور وساطت کاروں کی تجویز کا مثبت جواب دے ۔
حماس کے ایک سینئر مذاکرات کار نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ تنظیم غزہ میں فائر بندی کے لیے وساطت کاروں کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز پر آمادہ ہے۔
حماس کے ایک ذمے دار کے مطابق مصری قطری تجویز میں 50 روز کے لیے فائر بندی کی پیش کش کی گئی ہے۔ اس دوران میں حماس پانچ اسرائیلی فوجیوں کو رہا کرے گا جن میں ایک فوجی امریکی شہریت کا حامل ہے۔ اس کے مقابل اسرائیل کے پاس قید 250 فلسطینیوں کو آزاد کیا جائے گا۔ ان میں 150 عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
تجویز میں یہ بھی مذکور ہے کہ اسرائیل سات اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار ہونے والے 2000 فلسطینیوں کو رہا کرے۔ یہ وہ تاریخ ہے جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا اور غزہ کی پٹی میں جنگ چھڑ گئی تھی۔
حماس کی جانب سے قبول کی جانے والی تجویز میں اسرائیلی فوج کا غزہ کے ان علاقوں سے انخلا بھی شامل ہے جہاں اس کی 18 مارچ کو از سر نو تعیناتی عمل میں آئی تھی۔ مزید یہ کہ محصور غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل کھولی جائے جس کا اسرائیل نے 2 مارچ سے مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ