جموں و کشمیر میں افسران کے تبادلے پر میر نے ایل جی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔
جموں, 3 اپریل (ہ س)کانگریس نے جمعرات کے روز جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے درمیانی اور نچلی سطح کے افسران کے تبادلوں کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں کاروباری قواعد (بزنس رولز) کی منظوری کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔لیفٹینن
G A Mir


جموں, 3 اپریل (ہ س)کانگریس نے جمعرات کے روز جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے درمیانی اور نچلی سطح کے افسران کے تبادلوں کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں کاروباری قواعد (بزنس رولز) کی منظوری کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے 48 جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) افسران، بشمول 14 ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور 26 سب ڈویژنل مجسٹریٹس کے تبادلے کا حکم جاری کیا گیا، جسے کئی حلقوں نے بیوروکریسی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا ہے۔ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ یہ حکم ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے تقریباً ایک ماہ قبل کاروباری قواعد مرتب کر کے ایل جی کو منظوری کے لیے بھیجا تھا، تاکہ گورننس میں کسی قسم کی الجھن پیدا نہ ہو۔جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے جمعہ کو سری نگر میں حکومتی اتحادی اراکینِ اسمبلی کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا ہے۔کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری غلام احمد میر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کل صبح 11 بجے سری نگر میں اتحادی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے، جس میں تبادلوں کے معاملے پر بھی بات ہونے کا امکان ہے، حالانکہ اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایل جی کو کاروباری قواعد کی منظوری کا انتظار کرنا چاہیے تھا، کیونکہ حکومت پہلے ہی ان قواعد کی تجویز دے کر منظوری کے لیے دہلی بھیج چکی ہے۔جموں و کشمیر اسمبلی میں کانگریس لیجسلیٹو پارٹی کے سربراہ میر نے کہا کہ موجودہ کاروباری قواعد کے مطابق،مقامی جے کے اے ایس افسران کے تبادلے کا اختیار وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سابقہ قواعد میں واضح طور پر طے تھا کہ جے کے اے ایس افسران کا انتظام وزیر اعلیٰ کریں گے، جبکہ سینئر آئی اے ایس افسران کے تبادلے کا اختیار لیفٹیننٹ گورنر کو حاصل ہوگا۔میر نے ایل جی کے اقدام کو انتظامی معاملات پر منفی اثر ڈالنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے یہ تاثر گیا ہے کہ حکومت کے اندر معاملات ٹھیک نہیں چل رہے۔ ایل جی کو معلوم تھا کہ کاروباری قواعد منظوری کے مرحلے میں ہیں، اس کے باوجود انہوں نے یہ فیصلہ لیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande