اقلیتی اداروں کے72 ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات برخاست۔ اے کے خان بھی شامل
حیدرآباد ،3 اپریل (ہ س)۔ اسپیشل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود تفسیر اقبال نے ایک میموجاری کرتے ہوئے وظیفہ پرسبکدوشی کے بعد بھی محکمہ اقلیتی بہبودمیں خدمات انجام دینے والے72ملازمین کی خدمات کو برخاست کردینے کے احکام جاری کئے ہیں۔خدمات سے برخواست کردی
اقلیتی اداروں کے72 ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات برخاست۔ اے کے خان بھی شامل


حیدرآباد ،3 اپریل (ہ س)۔

اسپیشل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود تفسیر اقبال نے ایک میموجاری کرتے ہوئے وظیفہ پرسبکدوشی کے بعد بھی محکمہ اقلیتی بہبودمیں خدمات انجام دینے والے72ملازمین کی خدمات کو برخاست کردینے کے احکام جاری کئے ہیں۔خدمات سے برخواست کردینے جانے والو ں میں زیادہ تراقلیتی اقامتی اسکولس میں مامورتھے۔اسپیشل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود نے یہ کارروائی محکمہ نظم ونسق عامہ کی جانب سے دی گئی ہدایت پرکی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ 31 مارچ 2025 تک اُن ملازمین کی خدمات کوختم کردیاجائے جواپنے وظیفہ پرسبکدوشی کے باوجود بھی برسرخدمت تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن ملازمین کی خدمات کو برخواست کیاگیا اُن میں سرفہرست اے کے خان کا نام جوکانگریس حکومت کے قیام تک نائب صدرنشین وصدرٹمریزفرائض انجام دے رہے تھے جبکہ ان کی جگہ پرتقریباً ایک برس قبل ہی محمد فہیم قریشی کوتقررکیاگیا۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آیا اِن احکام کی روشنی میں یہ متصورکیاجائے کہ ایک ہی عہدہ پردوافرادفائزرہے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنبش قلم سے بیک وقت 72 عہدیداروں کو خدمات سے برطرف کردیا گیا لیکن ان کی جگہ نہ ہی تقررات کئے گئے ہیں اور نہ ہی کسی اورعہدیدارکوان کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔اچانک اتنی بڑی تعداد میں کلیدی عہدوں پرخدمات انجام دینے والے عہدیداروں کو برخواست کردیئے جانے سے جو خلاء پیدا ہوگااُس کے نتیجہ میں اُن اداروں کی کارکردگی پرمنفی اثرپڑے گا۔ یادرہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت کام کرنے والے مختلف اداروں میں پہلے سے ہی عہدیداروں اورملازمین کی قلت پائی جاتی ہے۔ ایسے میں وظیفہ کے بعد خدمات انجام دینے والے ملازمین کو برخواست کردینے سے ان اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثرہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande