دیواس، 2 اپریل (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے دیواس ضلع میں ایک سرکاری کالج میں تعینات ایک اسسٹنٹ پروفیسر نے اپنے پیروں سے ہندو دیوتاوں کی رنگولی مٹانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد طلباء تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے مظاہرہ کیا اور شکایت درج کروائی۔ دریں اثناء کالج پرنسپل کی شکایت پر کنود پولیس اسٹیشن نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزم اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ساتھ ہی انتظامیہ نے انہیں کالج سے نکال دیا ہے۔
تھانہ انچارج تہذیب قاضی نے بدھ کو کیس کی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ گورنمنٹ آرٹس اینڈ کامرس کالج کنود میں رنگولی مقابلے کے دوران طالبات نے بھگوان رام اور کرشن کی خوبصورت رنگولی بنائی تھی جسے ملزم اسسٹنٹ پروفیسر ججیر علی رنگ والا نے اپنے پیروں سے مٹا دیا۔ جس پر وہاں موجود طلباء نے احتجاج کیا۔ اس پورے واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس کے بعد کالج میں ہنگامہ مچ گیا۔ طلباء اور مقامی تنظیموں نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کراتے ہوئے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد انچارج پرنسپل پریم پال کی شکایت پر پولیس نے کیس درج کرکے جانچ شروع کردی ہے۔ پولیس نے اس کے خلاف بی این ایس کی دفعہ 298 اور 196 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد سے ملزم پروفیسر ججیر علی رنگ والا فرار ہے۔
اس معاملے کو لیکر ریاستی حکومت کے وزیر وشواس سارنگ نے کہا کہ ہم ایسی ذہنیت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ بھگوان کی رنگولی کے ساتھ ایسا کرنا کسی کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس واقعہ کی جانچ کر رہی ہے اور اس معاملے میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
دیواس کلکٹر رتوراج سنگھ کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ استاد ججیرر علی رنگ والا کے خلاف انڈین جسٹس کوڈ کی دفعہ 298 (کسی عبادت گاہ یا مقدس چیز کو نقصان پہنچانا یا بے حرمتی کرنا) اور 196 (مذہب، ذات پات وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن