کولکاتہ، 2 اپریل (ہ س)۔
پولیس نے گردوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک بڑے گینگ کو بے نقاب کر دیا۔ اس معاملے کے دو اہم ملزمین وکاس گھوش عرف شیتل اور گروپد جانا عرف امت کی جائیدادوں کی جانچ میں چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے دونوں کے بینک اکاو¿نٹس منجمد کر کے ان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دولت کی چھان بین شروع کر دی ہے۔
شیتل اور امت نے پچھلے تین چار سالوں میں گردوں کی اسمگلنگ کے ذریعے بے پناہ دولت حاصل کی۔ شیتل نے اشوک نگر میں مہنگے ماربل سے بنا دو منزلہ مکان بنایا اور لاکھوں روپے کے زیورات خریدے۔ اس کی مجموعی مالیت کا تخمینہ کروڑوں روپے میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی امت نے پوربا میدنی پور میں 50 لاکھ روپے کی زمین خریدی۔
پولیس ذرائع کے مطابق اگر ان جائیدادوں کا تعلق گردوں کی اسمگلنگ سے ثابت ہو جاتا ہے اور ملزمان اس کا صحیح حساب نہیں دے پاتے ہیں تو پولیس ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا عمل شروع کر سکتی ہے۔ فی الحال اشوک نگر تھانہ اس سمت میں کارروائی کر رہا ہے۔
اس معاملے میں، پولیس نے غازی آباد، اتر پردیش کے رہنے والے اس شخص کو نوٹس بھیجا ہے، جس کا گردہ ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر ریاستوں سے گردے وصول کرنے والوں کی بھی شناخت کی گئی ہے۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ لوگ گینگ کے ساتھ کیسے رابطے میں آئے اور انہوں نے گردہ خریدنے کے لیے کتنی رقم ادا کی۔
منگل کو پانچ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے شیتل کو دو دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا اور امت سمیت چار دیگر کو چار دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔ پولیس نے اس گینگ کے دیگر ممکنہ ارکان کی تلاش بھی تیز کر دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ