حیدرآباد, 2 اپریل (ہ س) لوک سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زبردست ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، کیونکہ حکومت وقف (ترمیمی) بل کو ایوان میں پیش کرنے جا رہی ہے۔ اس بل پر بحث اور منظوری کے لیے دوپہر 12 بجے سے رات 8 بجے تک کاوقت مقررکیاگیا ہے۔این ڈی اے میں شامل تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) نے بھی حکومت کے وقف (ترمیمی) بل کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹی ڈی پی کا کہنا ہے کہ وہ بل کے حق میں ووٹ دے گی، جس سے حکومت کو بل کی منظوری میں مزید تقویت ملے گی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آج پارلیمنٹ میں اس اہم بل پر ہونے والی بحث میں کیا پیش رفت ہوتی ہے اور حکومت اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود بل کو منظور کروانے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔دونوں فریق اس اہم مسئلے پر اپنی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہیں۔ بی جے پی، کانگریس اور دیگر کئی جماعتوں نے اپنے ارکان پارلیمنٹ کے لیے وہپ جاری کردیا ہے اور انہیں اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے ایک بڑی میٹنگ کی ہے، جس میں حکمت عملی طے کی گئی کہ وقف بل کی مخالفت کیسے کی جائے اور حکومت کو کس طرح گھیرنے کی کوشش کی جائے۔ لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران شدید ہنگامہ آرائی ہونے کے قوی امکانات ہیں، کیونکہ اپوزیشن اس بل کی سخت مخالفت کررہی ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ یہ بل غیر آئینی اور مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کے بنیادی حقوق پر حملہ ہے، جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب،حکمراں جماعت کے ارکان پارلیمنٹ کاکہنا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل دراصل غریب مسلمانوں کے فائدے کے لیے لایا جارہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیاکہ وہ ملک کو اس بل کے حوالے سے گمراہ کر رہی ہے۔ حکمراں جماعت کے مطابق، وقف کی بڑی جائیدادوں پر بااثر افراد قابض ہیں، اوربعض معاملات میں ہندوؤں کی زمینوں پربھی غیر قانونی قبضے کیے گئے ہیں۔حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں کوئی قانون پیش کیا جا رہا ہے تو اس کا مقصد صرف اور صرف عوام کو انصاف دلانا ہے۔ حکومت نے کہا کہ تمام متاثرہ افراد کے لیے عدالت، ہائی کورٹ اور سول کورٹ کے دروازے کھلے رہیں گے تاکہ وہ انصاف حاصل کر سکیں۔۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق