پٹنہ،03اپریل(ہ س)۔وقف ترمیمی بل کو لے کر اب جنتا دل یونائیٹڈ میں ہنگامہ ہے۔ پارلیمنٹ میں وقف بل کی حمایت پر نتیش کمار کی اپنی پارٹی کے اندر احتجاج کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ جس کے مضر اثرات جے ڈی یو میں نظر آنے لگے ہیں۔ بہار میں انتخابات کا سال ہے اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اقلیتی برادری سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ جے ڈی یو میں 4 اپریل کو اقلیتی لیڈروں کی میٹنگ منسوخ کر دی گئی ہے۔ وقف بل کی منظوری سے پارٹی کے کئی سینئرمسلم لیڈر ناراض ہیں۔ 4 اپریل کو پٹنہ کے جے ڈی یو کرپوری آڈیٹوریم میں اقلیتوں کی ایک بڑی میٹنگ ہونے والی تھی ۔ جس میں اسمبلی انتخابات کے لیے حکمت عملی بنائی جائے گی ، لیکن وقف بل کی منظوری کے بعد میٹنگ میں جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں کی شرکت کم ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے میٹنگ کو فی الحال منسوخ کر دیا گیا ہے۔جب نتیش کمار کے قریبی جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی سے اقلیتی میٹنگ کی منسوخی کے بارے میں سوال کیا گیا تو سنجے گاندھی نے کہا کہ میٹنگ پہلے ہی منسوخ کر دی گئی ہے کیونکہ کل جمعہ ہے۔ سنجے گاندھی نے کہا کہ جب اقلیتی مورچہ کے صدر آئیں گے تب ہی تاریخ طے کی جائے گی۔ غلام رسول بلیابی اور دیگر مسلم لیڈروں کی ناراضگی پر سنجے گاندھی نے کہا کہ میں نے کئی لیڈروں سے بات کی ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے۔میرے پاس غلام رسول بلیاوی کی میٹنگ کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ وقف بل کی منظوری کے بعد سنجے گاندھی پارٹی کا دفاع کر رہے ہیں اور فی الحال مسلم لیڈروں کی ناراضگی سے انکار کر رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan