امریکہ کا ایران سے متعلق نئی پابندیاں جاری کرنے کا اعلان
واشنگٹن،02اپریل (ہ س)۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے منگل کو ایران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جس میں چھ اداروں اور دو افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے محکم
امریکہ کا ایران سے متعلق نئی پابندیاں جاری کرنے کا اعلان


واشنگٹن،02اپریل (ہ س)۔

امریکی محکمہ خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے منگل کو ایران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جس میں چھ اداروں اور دو افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے محکمہ انصاف کے ساتھ مل کر چھ اداروں اور دو افراد کے نیٹ ورک کی نشاندہی کی جو ایران کی قدس ایرو اسپیس انڈسٹریز کے لیے ڈرون کے پرزہ جات کی خریداری کے ذمہ دار ہیں۔اس نیٹ ورک نے ایران کے ملٹری-صنعتی کمپلیکس میں دیگر اداروں کی خریداری میں بھی سہولت فراہم کی۔ اس میں ایرانی ایئر کرافٹ انڈسٹری کمپنی (HESA) اور شاہد بیکری انڈسٹریل گروپ (SBIG) شامل ہیں۔

وزارت خزانہ ے اپنے بیان میں کہا کہ آج کی کارروائی ایرانی ہتھیاروں کو پھیلانے والوں کو نشانہ بنانے والی پابندیوں کے دوسرے دور کی نمائندگی کرتی ہے کیونکہ صدر نے 4 فروری 2025 کو قومی سلامتی کے صدارتی یادداشت نمبر 2 جاری کی تھی جس میں ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو¿ کی مہم چلانے کا حکم دیا گیا تھا۔ٹریڑری سکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کہاکہ ایران کی طرف سے ڈرونز اور میزائلوں کا پھیلاو¿ خواہ خطے میں اس کی دہشت گرد پراکسیوں کے لیے ہو یا یوکرین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے روس کے لیے ہو امریکی شہریوں اور سروس ممبران، ہمارے اتحادیوں اور ہمارے شراکت داروں کے لیے خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ خزانہ ایران کے ملٹری-صنعتی کمپلیکس اور اس کے ڈرونز، میزائلوں اور روایتی ہتھیاروں کے پھیلاو¿ میں خلل ڈالتا رہے گا جو اکثر اس کے دہشت گرد پراکسیوں سمیت عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کے ہاتھ میں آتے ہیں۔یہ بات قابل غور ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کے ڈرون اور میزائل پروگراموں میں ملوث افراد اور اداروں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں اور مظاہرین کو دبانے کے ذمہ داروں پر پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ ان پر گذشتہ چند برسوں میں وسیع پابندیاں عائد کی ہیں۔اس کے برعکس تہران روس کو ہتھیاروں کی فراہمی کے الزام کی تردید کرتا ہے، اپنے میزائل پروگرام کو دفاعی سمجھتا ہے اور انسانی حقوق کی پابندیوں کو سیاست زدہ قرار دیتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande