غزہ،یکم اپریل(ہ س)۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملے میں گذشتہ 10 روز کے دوران کم از کم 322 بچے قتل اور 609 زخمی ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال نے ایک بیان میں کہا کہ ان اعداد و شمار میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو 23 مارچ کو جنوبی غزہ میں الناصر ہسپتال کے سرجیکل ڈپارٹمنٹ پر حملے میں قتل یا زخمی ہوئے تھے۔ یونیسف نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر بچے بے گھر ہوئے ہیں اور عارضی خیموں یا تباہ شدہ گھروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔18 مارچ کو اسرائیل نے تقریباً دو ماہ طویل جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ پر شدید بم باری دوبارہ شروع کی اور پھر ایک نیا زمینی حملہ کیا۔
یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ ’فائر بندی غزہ کے بچوں کے لیے اشد ضروری امید کی کرن تھی لیکن بچوں کو ایک مرتبہ پھر مہلک تشدد اور محرومی کے چکر میں دھکیل دیا گیا ہے۔‘ رسل نے مزید کہا: ’تمام فریقین کو بچوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہو گا۔یونیسیف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تقریباً 18 ماہ کی جنگ کے بعد اب تک 15 ہزار سے زائد بچے قتل، 34 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور تقریبا 10 لاکھ بچے بار بار بے گھر ہوئے ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔یونیسیف نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی آمد پر عائد پابندی ختم کرے جو 2 مارچ سے نافذ العمل ہے۔ ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ بیمار اور زخمی بچوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا جائے۔
یونیسف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’خوراک، صاف پانی، پناہ گاہوں اور طبی سہولیات کی تیزی سے قلت پیدا ہو رہی ہے۔ ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے بغیر غذائی قلت، بیماریوں اور دیگر قابل حل مسائل میں اضافے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے بچوں کی ایسی اموات میں اضافہ ہو گا جنہیں روکا جا سکتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’دنیا کو بچوں کے قتل اور مصائب کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بڑے فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے کم از کم ایک ہزار افراد سے زائد قتل کیے جا چکے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ بچے اور خواتین ہیں۔ اقوام متحدہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایک لاکھ 42 ہزار فلسطینی ایک ہفتے میں غزہ میں در بدر ہوئے ہیں۔
یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان نے کہا کہ ’صرف ایک ہفتے میں 142,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔‘ ان کے مطابق غزہ کی تقریباً 90 فیصد آبادی سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جارحیت سے رواں سال جنوری کے درمیان کم از کم ایک بار بے گھر ہوئی ہے۔اسرائیل نے ان حالیہ حملوں میں حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع، سیاسی دفتر کے رکن اسماعیل برہوم اور ایک اور سینیئر رہنما صلاح البرداویل کو بھی قتل کر دیا تھا۔ غزہ میں محکمہ صحت کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل حملوں میں 50 ہزار سے زائد فلسطینی قتل کر چکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan