حیدرآباد , 25 مارچ (ہ س)۔سپریم کورٹ نے تلنگانہ اسمبلی اسپیکر کی جانب سے 10 ارکان اسمبلی کی نااہلی کی درخواستوں پر فیصلے میں تاخیر پرسخت موقف اختیار کیا، جو بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) سے حکمران کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔ عدالت نے ا س معاملہ کی سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کردی۔جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل عدالت عظمی کی بنچ نے طویل تاخیر پر سوال اٹھایا۔ جسٹس گوائی نے پوچھا، ”آج کی تاریخ تک پہلی درخواست دائر کیے کتنا وقت گزر چکا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ ایک سال ہو گیا ہے۔اسپیکر کے دفتر نے ابھی تک ان درخواستوں کے فیصلے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن کیوں مقرر نہیں کی؟” بی آر ایس کے ایم ایل اے پدی کوشک ریڈی کی جانب سے سینئر وکیل آریاما سندرم نے دلیل دی کہ ستمبر 2024 میں ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود، جس میں اسپیکر کو چار ہفتوں کے اندر سماعت کا شیڈول طے کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، جنوری تک کوئی نوٹس جاری نہیں کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ نااہلی کا سامنا کرنے والے ایک ایم ایل اے نے کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیا اور شکست کھانے کے باوجود وہ بی آر ایس کے تحت ایم ایل اے کی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل ڈی شیشادری نائیڈو نے بھی دلائل پیش کئے۔ انہوں نے مزید کہا، ”سپریم کورٹ کی گزشتہ سماعت کے بعد ہی اسپیکر نے 13 فروری کو نوٹس جاری کیے، جن میں منحرف ایم ایل ایز کو جواب دینے کے لیے تین ہفتے دیئے گئے تاہم مہلت گزر جانے کے باوجود نااہلی کی درخواستوں کی صورتحال واضح نہیں ہوئی۔ مدعاعلیہان کی طرف سے مزید وقت مانگنے پر جسٹس گوائی نے متنبہ کیا،اس عدالت میں تاخیر کے حربے نہ آزمائیں۔ بنچ نے یہ بھی سوال کیا کہ آیا کوئی آئینی عدالت اسپیکر کو کسی مخصوص مدت میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے، جس پر سندرم نے کہاکہ آئین ہم سب سے بالاتر ہے۔ یہ عدالت کا فرض ہے کہ وہ اس کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق