30 Nov 2025, 5:47 HRS IST

سید رضاءالحق مرحوم خوش خلقی اور خدا ترسی کے پیکر تھے: پروفیسر کوثر مظہری
معروف ادیب اور ماہر تعلیم ڈاکٹر انوار الحق کے والد کی رحلت پر تعزیت نئی دہلی،19مارچ(ہ س)۔ معروف ماہر تعلیم، دی ونگ فاو?نڈیشن نئی دہلی کے بانی صدر اور ڈائنامک انگلش اکیڈمی کے بنیاد گزار ڈاکٹر انوار الحق کے والد سید رضاءالحق، سابق استاد مدرسہ احمدیہ
سید رضاءالحق مرحوم خوش خلقی اور خدا ترسی کے پیکر تھے: پروفیسر کوثر مظہری


معروف ادیب اور ماہر تعلیم ڈاکٹر انوار الحق کے والد کی رحلت پر تعزیت

نئی دہلی،19مارچ(ہ س)۔

معروف ماہر تعلیم، دی ونگ فاو?نڈیشن نئی دہلی کے بانی صدر اور ڈائنامک انگلش اکیڈمی کے بنیاد گزار ڈاکٹر انوار الحق کے والد سید رضاءالحق، سابق استاد مدرسہ احمدیہ حنفیہ قاضی چک، کرنول، مظفر پور کی رحلت پر ان کے شاگردوں اور خویش و اقارب میں غم کا ماحول ہے۔ مختلف علاقوں کے طلبہ و اساتذہ کے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔صدر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے تعزیتی پیغام میںمرحوم کو خوش خلقی اور شفقت کا پیکر بتایا اور کہا کہ ان کے انتقال کی خبر جاں کاہ ہے۔ وہ ایک سچے، خدا ترس اور کھرے انسان تھے۔ مرحوم کے بڑے بھائی جنرل سکریٹری بہار مدرسہ شکچھک سنگھ اور سابق ممبر بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سید محب الحق نے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل کی دعائیں دی ہیں۔ سابق وائس چانسلر مولانا مظہرالحق عربی فارسی یونی ورسٹی پروفیسر اعجاز علی ارشد نے بھی ان کی رحلت پر اظہار افسوس کیا ہے۔

سید رضاءالحق صاحب اردو کے جذباتی خادم، مشفق استاد اور نہایت ہی تقویٰ گزار عالم دین تھے۔ طلبہ کے لیے ان کے خلوص اور شفقت کو بھلا پانا ممکن نہیں۔ وہ ایک مخلص انسان تھے۔ ان کے طلبہ دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں اور مختلف عہدوں پر فائز ہیں۔ مرحوم نے مدرسہ احمدیہ حنفیہ قاضی چک، مظفر پور، بہار میں ایک عرصہ تک درس و تدریس کا کام انجام دیا اور بلا تفریق مذہب و ملت بچوں کی تعلیم کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ ڈاکٹر عقیل احمد سابق ڈائرکٹر این سی پو ایل اور پروفیسر خواجہ اکرام الدین، استاذ جے این یو نے بھی ان کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے اور مرحوم کے اہل خانہ کو تعزیت پیش کی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاذ ڈاکٹر خالد مبشر نے مرحوم کی شفقت و محبت اور علم و فضل کو یاد کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بھتیجے دہلی میں مقیم مشہور طبیب ڈاکٹر عقیل احمد، مرحوم کے علاج کے دوران ہر وقت ان کو اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے رہے۔ وہ بھی اپنے چچا مرحوم کی رحلت پر شدید صدمے میں ہیں اور اپنے خاندان کے اس بزرگ فرد کے گزر جانے پر کبھی نہ پر ہونے والے خلا کی بات کہی ہے۔ ادبی میراث ویب میگزین کے ایڈیٹر ڈاکٹر نوشاد منظر نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کو ادب کا باذوق قاری اور ایک مخلص انسان بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا یوں بے وقت دنیا سے چلے جانا ہم سب کے لیے کرب کا باعث ہے اور سب سے زیادہ تو ڈاکٹر انوارالحق کے لیے یہ ایک بہت ہی تکلیف دہ واقعہ ہے۔ چھ مہینے قبل مرحوم کو کینسر جیسی مہلک بیماری کی تشخیص ہوئی اور تب ہی سے وہ زیر علاج تھے۔ مرحوم کو ا?نت کا کینسر تھا۔ وہ شدید تکلیف میں تھے۔ ڈاکٹر نعمان قیصر استاذ پٹنہ یونی ورسٹی نے ان کے دارِفانی سے کوچ کر جانے کو ایک غیرمعمولی سانحہ سے تعبیر کیا اور ان کی مغفرت کی دعائیں کی ہیں۔ ساتھ ہی بیرون ممالک سے ان کے جن خویش و اقارب نے تعزیت کا پیغام بھیجا ہے ان میں قطر سے شہاب الدین احمد، کینیڈا سے جاوید دانش، انڈونیشیا سے سید انظر ہاشمی، امریکہ سے مولی لانگ، جانتھن شائفلی، رینڈل لانگ، وینڈی کیلی، میٹ جویٹ، جانتھن یانگ، مسٹر پال، مسٹر آرنی سوان وغیرہ شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande