
جموں, 30 نومبر (ہ س)۔
بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اعلیٰ افسر نے اتوار کو کہا کہ جموں کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی دراندازی کو صفر پر برقرار رکھنے کے لیے فورس پوری طرح چوکس ہے اور سیلاب سے تباہ ہونے والا انفراسٹرکچر محض ایک ماہ میں بحال اور مزید مضبوط کر دیا گیا ہے۔
سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس ایف جموں فرنٹیئر کے انسپکٹر جنرل، ششانک آنند نے فورس کی اہم کامیابیوں اور آپریشن سندور کے دوران اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر تعینات جوانوں کے پاس جدید آلات موجود ہیں جو دھند اور شدید سردی میں بھی نگرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آئی جی نے کہا کہ جموں کا یہ حساس سرحدی علاقہ ہو یا کوئی بھی موسم ،بارش، دھند، گرمی یا سردی—بی ایس ایف کے جوان سال کے 365 دن اور دن رات چوکس رہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن سندور کے دوران فورس کے دو اہلکار شہید ہوئے، جبکہ ایک جوان رواں برس ستمبر میں پرگھوال کے اگلی چوکی پر ڈیوٹی کے دوران ڈوب کر شہید ہوا۔ ہمارے جوان سرحدی چوکی نہیں چھوڑتے، چاہے جان کی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔
آئی جی نے کہا کہ فورس کے پاس سرحد پار سرگرمیوں کے متعلق قابل اعتماد ذرائع موجود ہیں، جن سے ممکنہ دراندازی کے بارے میں بروقت اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں مختلف سیکیورٹی ایجنسیاں—بی ایس ایف، فوج، انٹیلی جنس بیورو، اسپیشل بیورو، این آئی اے اور دیگر ادارے—قریبی تال میل کے ساتھ کام کرتے ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ فورس دراندازی کو “صفر” تک محدود رکھنے کے ہدف کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔
سیلاب کے دوران اینٹی انفلیٹریشن گرڈ کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے تسلیم کیا کہ اگست-ستمبر کے سیلاب نے انفراسٹرکچر کو متاثر کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف نے 2014 اور 1988 جیسی آفات کا بھی سامنا کیا ہے اور وہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کافی مضبوط ہے۔
آنند نے بتایا کہ مرکزی حکومت کے ایک وزیر نے 31 اگست اور یکم ستمبر کو سرحدی علاقوں کا جائزہ لیا اور ایک ماہ کے اندر تمام تباہ شدہ ڈھانچے کی بحالی کا ہدف طے کیا گیا، جو بی ایس ایف نے کامیابی سے پورا کیا بلکہ بارڈر گرڈ کو مزید مضبوط کر دیا۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارا نظام پہلے کے مقابلے میں دو سے تین گنا بہتر ہے۔ ہم نے نقصان کو چیلنج کے طور پر لیا اور اپنے سسٹم کو مزید مضبوط بنایا۔
سیلاب کے دوران ممکنہ دراندازی کے تمام راستوں کو فورس کی تعیناتی اور اضافی نگرانی سے بند کر دیا گیا تھا۔منشیات اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ پر بات کرتے ہوئے آئی جی نے کہا کہ حکومت اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک جامع حکمتِ عملی پر عمل کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے کچھ لوگ اپنے ملک کو بیچ دیتے ہیں، اور یہی صورتحال جموں و کشمیر، پنجاب اور راجستھان میں بھی دیکھی جاتی ہے، جس سے دشمن قوتیں منشیات کی اسمگلنگ کو فروغ دیتی ہیں۔سردیوں میں دھند اور کم ویژن کی صورتحال سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سرحد پر تعینات جوان جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس ہیں۔ ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی موجود ہے جو دھند میں بھی سرگرمیوں کا سراغ لگا سکتی ہے۔ ہم ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر