
لداخ , 30 نومبر (ہ س)۔
لداخ کے لیفٹننٹ گورنر کویندر گپتا نے کہا کہ خطے کی مشہور پشمینہ صرف ایک تجارتی شے نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ ہے جس میں صدیوں پر محیط ہنر اور روایت پوشیدہ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انتظامیہ اس قیمتی اور اعلیٰ معیار کے ریشے کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
یہ بات انہوں نے اپشی پشمینہ گوٹ فارم کے دورے کے موقع پر کہی، جہاں وہ پشمینہ کی پیداوار کو مضبوط بنانے، مقامی بکری کی نایاب نسل کے تحفظ اور خانہ بدوش برادریوں کی روزی روٹی کے استحکام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے پہنچے۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق، دورے کے دوران ڈسٹرکٹ شیپ ہسبینڈری آفیسر صوبانگ مورپ نے لیفٹننٹ گورنر کو فارم کی موجودہ صورتحال، بکریوں کی تعداد، برفانی چیتے سمیت دیگر جنگلی جانوروں سے بچاؤ کے انتظامات، اور سردیوں میں اضافی چارے کی فراہمی کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدامات پشمینہ بکریوں کی صحت اور بہتر پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
لیفٹننٹ گورنر نے افزائشِ نسل کے طریقہ کار، چارہ و خوراک کے انتظام، جانوروں کی طبی دیکھ بھال اور پشمینہ کے معیار اور پیداوار میں اضافہ کرنے والے اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کی پشمینہ اپنی نفاست اور عالمی شہرت کی وجہ سے دنیا بھر میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔
گپتا نے کہا کہ لداخ کی پشمینہ صرف تجارتی دولت نہیں بلکہ ہمارا ثقافتی خزانہ ہے، اور انتظامیہ اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ بلند علاقوں میں رہنے والے چرواہوں اور پشمینہ کو عالیشان مصنوعات میں ڈھالنے والے ہنرمندوں دونوں کا مضبوط اور پائیدار نظام تشکیل دیا جائے۔
انہوں نے متعلقہ محکمے کو سائنسی افزائشِ نسل میں تیزی لانے، چارہ بینکوں کو وسعت دینے اور سخت سردیوں میں بلاوقفہ ویٹرنری سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے روایتی علم کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بکریوں کی جی پی ایس نگرانی، جدید کٹائی کے طریقے، اور تحقیق پر مبنی افزائشِ نسل کی تجاویز پیش کیں تاکہ عالمی معیار برقرار رہ سکے۔
گپتا نے مارکیٹ لنکیجز مضبوط بنانے، برانڈنگ کو فروغ دینے اور جعلی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر سرٹیفیکیشن میکانزم تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں کام کرنے والے فارم اسٹاف اور فیلڈ ٹیموں کی خدمات کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ پشمینہ کی معیشت کو مضبوط کرنا چرواہوں کی آمدنی بڑھانے اور لداخ کو قدرتی ریشوں کے عالمی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر