
وزیر اعلیٰ نے ایک کلک سے 13 اضلاع کے 8.64 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو 653.34 کروڑ روپے منتقل کئے
کسانوں کو سویا بین میں پیلے موزیک سے ہونے والے نقصانات کا پہلی بار معاوضہ ملا
بھوپال، 3 اکتوبر (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ کسانوں کی خدمت ہی بھگوان کی خدمت ہے۔ چاہے سیلاب ہو، آفات ہوں، ژالہ باری ہو یا کیڑوں کا حملہ، کسان ہر مصیبت سے لڑتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کسانوں پر کوئی بھی مصیبت یا آفت آئے، حکومت ہر بحران کے وقت ساتھی بن کر کھڑی ہے۔ کسان اکیلے نہیں ہیں۔ ہم پورے خاندان کے طور پر آپ کے ساتھ ہیں۔ ریاست کی خوشی آپ کی خوشی میں مضمر ہے۔ کسانوں کو ہر قسم کی آفات اور کیڑوں کے حملے سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کے لیے ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ یہ امدادی رقم کسانوں کو بڑی مدد فراہم کرے گی۔ ہماری حکومت اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک ہر متاثرہ کسان کو امدادی رقم نہیں مل جاتی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہماری اصلی دیوالی ہے۔ کسانوں کی محنت اور جذبہ ایک بار پھر ان کے کھیتوں کو زندگی اور خوشحالی سے بھر دے گا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو جمعہ کو بھوپال میں اپنی رہائش گاہ واقع دفتر سمتو بھون میں قدرتی آفات اور کیڑوں کے حملے سے فصلوں کے نقصان کے لیے کسانوں میں امدادی رقم کی تقسیم پروگرام سے ورچوئلی خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نےریاست کے مختلف اضلاع میں گزشتہ چند مہینوں میں ہوئی کثرت بارش، سیلاب اور سویا بین میں پیلے موزیک کی بیماری کی وجہ سے فصلوں کے نقصان کے لیے 13 متاثرہ اضلاع کے 8 لاکھ 84 ہزار 772 کسانوں کے بینک کھاتوں میں ایک کلک کے توسط سے 653.34 کروڑ روپے ٹرانسفر کیے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس میں کثرت بارش/سیلاب سے فصلوں کے نقصان سے متاثرہ 3 لاکھ 90 ہزار 167 کسانوں کے لیے 331.34 کروڑ روپے اور زرد موزیک/کیڑے کی بیماری سے فصل کے نقصان سے متاثر 4 لاکھ 94 ہزار 605 کسانوں کو 322 کروڑ روپے کی امدادی رقم شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام متاثرہ کسانوں کو امدادی رقوم کی فراہمی اور فصلوں کے سروے میں مکمل شفافیت کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔ کسانوں کے چہروں پر کھوئی ہوئی مسکراہٹیں واپس لانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ حکومت نے دھان کی پیداوار کرنے والے 669,000 سے زیادہ کسانوں کے کھاتوں میں ₹4,000 فی ہیکٹر کے حساب سے 337 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم منتقل کی ہے۔ سویا بین پیدا کرنے والے کسانوں کے لیے بھی بھاوانتر یوجنا شروع کی گئی ہے۔
حکومت فصل کی فروخت قیمت اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے درمیان فرق کسانوں کو براہ راست دے گی۔ ہم کسانوں کا کوئی نقصان نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کسان بھائیوں کے دکھ درد میں آپ کے خادم بن کر کھڑے ہیں۔ کسانوں کا پسینہ رائیگاں نہیں جائے گا، آپ کی محنت ایک بار پھر ہریالی کا روپ دھارے گی اور ریاست کو خوشحال بنائے گی، ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔ ریاستی حکومت ہر قدم پر کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہے۔ ہم ریاست کے کسی بھی کسان کو آفت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ امدادی رقم کی تقسیم کے پروگرام میں ریونیو منسٹر کرن سنگھ ورما، ایڈیشنل چیف سکریٹری نیرج منڈلوئی، ریونیو کمشنر انوبھا شریواستو اور محکمہ کے سینئر افسران موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن