
تہران، 3 اکتوبر (ہ س)۔ ایک اہم پیشرفت میں، امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں اس وقت تناو¿ پیدا ہوا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹ کوف نے تین یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے نمائندے کے ساتھ ایران کی تجویز کردہ میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔تہران ٹائمز نے حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے حوالے سے کہا ہے کہ وٹ کوف نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ ترجمان نے الزام لگایا کہ ایران کی جانب سے پابندیاں 45 دن کے لیے معطل کرنے کی درخواست بھی اسرائیلی لابی کے دباو پر مسترد کر دی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ یورپ نے ایران سے کہا تھا کہ اگر وہ جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) سے قبل لگائی گئی اقوام متحدہ کی پابندیوں سے طویل مدتی ریلیف چاہتا ہے تو اسے امریکی نمائندوں کے ساتھ براہ راست بات چیت پر رضامند ہونا چاہیے۔دریں اثنا، اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل کی جانب سے اس سلسلے میں ایک قرارداد میں چھ ماہ کی توسیع کرنے میں ناکامی کے بعد ایران کے خلاف اسنیپ بیک پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے گزشتہ ماہ اسنیپ بیک میکانزم کو باضابطہ طور پر استعمال کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ ممالک 2015 کے ایران جوہری معاہدے کے اصل دستخط کنندگان ہیں، جسے جے سی پی او کہا جاتا ہے۔ جے سی پی او کے تحت، ایران نے اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan