
نئی دہلی، 7 ستمبر (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں تیزی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے جاری فروخت کے دباؤ کے باعث گھریلو شیئر مارکیٹ آج ایک بار پھر گراوٹ کا شکار ہو گئی۔ آج کاروبار کا آغاز بھی کمزوری کے ساتھ ہوا تھا۔ مارکیٹ کھلنے کے فوراً بعد خریداروں نے خریداری کا زور بنانے کی کوشش کی، جس کے باعث سینسیکس اور نفٹی دونوں انڈیکس کی رفتار میں معمولی بہتری بھی دیکھی گئی۔
تاہم کچھ ہی دیر بعد مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کی وجہ سے دونوں انڈیکس مسلسل پھسلتے چلے گئے۔ پورے دن کے کاروبار کے بعد سینسیکس اور نفٹی 0.50 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔ آج مارکیٹ میں آئی کمزوری کے باعث سرمایہ کاروں کو تقریباً 3.14 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
بی ایس ای کا سینسیکس آج 69.38 پوائنٹس یعنی 0.09 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 76,446.05 پوائنٹس کی سطح پر کھلا۔ کاروبار شروع ہوتے ہی خریداری کی حمایت سے یہ انڈیکس اوپننگ لیول سے 31.14 پوائنٹس بڑھ کر 76,477.19 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم خریداری کا یہ سلسلہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکا۔ کچھ ہی دیر بعد مارکیٹ پر فروخت کنندگان کا دباؤ حاوی ہو گیا، جس سے سینسیکس ایک بار پھر گرنے لگا۔ مسلسل فروخت کے باعث سہ پہر تین بجے تک یہ انڈیکس 544.91 پوائنٹس یعنی 0.71 فیصد گر کر 75,970.52 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ کاروبار کے آخری نصف گھنٹے میں خریداروں نے ایک بار پھر خریداری کا زور بنایا، جس سے سینسیکس دن کی نچلی سطح سے 162.29 پوائنٹس کی ریکوری کرنے میں کامیاب رہا اور 382.62 پوائنٹس یعنی 0.50 فیصد کی کمزوری کے ساتھ 76,132.81 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
سینسیکس کی طرح این ایس ای کے نفٹی نے بھی آج 14.55 پوائنٹس یعنی 0.06 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 23,883.15 پوائنٹس کی سطح سے کاروبار کا آغاز کیا۔ مارکیٹ کھلتے ہی خریداری کی حمایت ملنے سے یہ انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 23,890 پوائنٹس کی سطح تک پہنچا۔ اس کے بعد مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس سے نفٹی مسلسل گرتا چلا گیا۔ شیئرز کی مسلسل فروخت کے باعث آج کا کاروبار ختم ہونے سے کچھ دیر قبل یہ انڈیکس 159.80 پوائنٹس یعنی 0.67 فیصد گر کر 23,737.90 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد خریداروں نے نچلی سطح پر خریداری شروع کی، جس سے نفٹی میں 41.25 پوائنٹس کی بہتری آئی اور یہ 118.55 پوائنٹس یعنی 0.50 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 23,779.15 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
آج دن بھر کے کاروبار کے دوران آئی ٹی سیکٹر کے شیئروں میں زبردست فروخت دیکھی گئی، جس کے باعث نفٹی کا آئی ٹی انڈیکس 2.28 فیصد کی گراوٹ کا شکار ہو گیا۔ اسی طرح میٹل سیکٹر میں فروخت کے باعث بی ایس ای کا میٹل انڈیکس 1.36 فیصد کی کمزوری کے ساتھ بند ہوا۔ اس کے علاوہ بینکنگ، آٹوموبائل، کیپٹل گڈز، کنزیومر ڈورایبلز، ایف ایم سی جی، آئل اینڈ گیس اور پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کے انڈیکس بھی کمزوری کے ساتھ سرخ نشان میں بند ہوئے۔
دوسری جانب ادویات شعبے کے شیئروں میں آج خریداری دیکھی گئی، لیکن دیگر بیشتر شعبوں میں فروخت کے دباؤ کے باعث دوا سازی کے شعبہ کی خریداری بھی مارکیٹ کو سہارا نہیں دے سکی۔ وسیع بازار میں بھی آج مجموعی طور پر دباؤ برقرار رہا۔ نفٹی کا مڈ کیپ انڈیکس 0.46 فیصد کی کمزوری کے ساتھ بند ہوا، جبکہ اسمال کیپ انڈیکس نے 0.02 فیصد کی معمولی مضبوطی کے ساتھ آج کے کاروبار کا اختتام کیا۔
آج شیئر مارکیٹ میں آئی کمزوری کے باعث شیئر بازار کے سرمایہ کاروں کی دولت میں تین لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔ بی ایس ای میں لسٹڈ کمپنیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن آج کے کاروبار کے بعد گھٹ کر 486.61 لاکھ کروڑ روپے (عارضی) رہ گئی، جبکہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری دن یعنی جمعہ کو ان کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 489.75 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس طرح آج کے کاروبار سے سرمایہ کاروں کو تقریباً 3.14 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد