تباہ کن سیلاب کے 10 دن بعد بھی سرنگ میں پھنسا انجینئر زندہ ملا
کاٹھمنڈو، 4 ستمبر (ہ س)۔ نیپال کے راسوا میں دریائے بھوٹیکوشی کے تباہ کن سیلاب کے 10 دن بعد مکینیکل انجینئر سنجے ساہ کو ترشولی-3 اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔ بچاو کے بعد سنجے نے بچاو ٹیم کو سرنگ کے اندر کی صورتحال کے بارے میں
سیلاب


کاٹھمنڈو، 4 ستمبر (ہ س)۔ نیپال کے راسوا میں دریائے بھوٹیکوشی کے تباہ کن سیلاب کے 10 دن بعد مکینیکل انجینئر سنجے ساہ کو ترشولی-3 اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔

بچاو کے بعد سنجے نے بچاو ٹیم کو سرنگ کے اندر کی صورتحال کے بارے میں اہم معلومات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت سرنگ میں تقریبا 40 سے 45 افراد موجود تھے۔ سنجے ساہ کے مطابق ترشولی-3 اے پروجیکٹ کا کنٹرول روم عام اوقات میں ایک آپریٹر کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور باقی وقت میں تقریبا چار سے پانچ افراد ہوتے ہیں۔ لیکن حادثے کے وقت وہاں تقریبا 40 سے 45 افراد جمع تھے۔

سنجے کنٹرول روم کے انچارج تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اتنے بڑے واقعے کے بعد ان کے لیے اکیلے باہر جانا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے محفوظ جگہ منتقل ہونے کو کہا اور لوگوں کو بچانے کی کوشش میں کافی وقت گزارا۔

'سرنگ لمبی ہے، کچھ لوگ اب بھی پھنسے ہو سکتے ہیں'۔ ریسکیو ٹیم نے سنجے سے یہ بھی پوچھا کہ ان کے اندازے کے مطابق مزید کتنے لوگ سرنگ کے اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔ سنجے نے بتایا کہ اس جگہ کے آس پاس تقریبا تین سے چار لوگ تھے جہاں وہ خود پھنسے ہوئے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سرنگ کافی لمبی ہے اور پاور ہاو¿س کی طرف بھی کچھ لوگ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پانی کے تیز بہاو¿ کی وجہ سے کچھ لوگ سرنگ کے اندر پھنس گئے ہوں گے۔

سنجے نے کہا، سرنگ کافی لمبی ہے۔ پانی کی تیزبہاو کی وجہ سے کچھ لوگ اندر پھنس سکتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سرنگ کے اندر دس دن رہنے کے دوران سنجے کے لیے سب سے بڑا سہارا کیا تھا، تو انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل ہرے کرشنا منتر کا وردکرتے رہے۔

ریسکیو ٹیم سے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں دوسری زندگی مل گئی ہے۔ سنجے کے لیے سرنگ سے باہر نکلنا نئی زندگی کے آغاز سے کم نہیں ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande