ہندوستان نے ٹیکس سے متعلق دو نئے برکس ورکنگ گروپس کے قیام پر زور دیا
نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بدھ کے روز کہا کہ کمپنیوں اور ان کی ذیلی اکائیوں کے درمیان لین دین(ٹرانسفرپرائسنگ) سے متعلق تنازعات ترقی پذیر ممالک پر غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سیتا رمن نے نئی دہلی میں من
برکس


نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بدھ کے روز کہا کہ کمپنیوں اور ان کی ذیلی اکائیوں کے درمیان لین دین(ٹرانسفرپرائسنگ) سے متعلق تنازعات ترقی پذیر ممالک پر غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔

سیتا رمن نے نئی دہلی میں منعقدہ برکس ممالک کے ٹیکس حکام کے سربراہوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان نے ٹیکس پر دو نئے برکس ورکنگ گروپس کے قیام پر زور دیا ہے۔ اجلاس میں دو نئے ورکنگ گروپوں کے دائرہ کار سے متعلق دستاویزات پر غور کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ورکنگ گروپ بین الاقوامی ٹیکس اور ٹرانسفر پرائسنگ اور ریونیو کے اعداد و شمار سے نمٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ورکنگ گروپ وقت کے ساتھ ترقی کے لیے پائیدار ادارہ جاتی انتظامات کریں گے، قطع نظر اس کے کہ برکس کی صدارت کس کے پاس ہے۔

نرملا سیتا رمن نے کہا کہ یہ انتظام ہندوستان کی صدارت کے بعد بھی جاری رہے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی ٹیکس کے قوانین پر متعدد کثیرالجہتی ٹیکس مذاکرات کے ذریعے دوبارہ بات چیت کی جا رہی ہے۔ ان میں بین الاقوامی ٹیکس تعاون سے متعلق اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن فعال مذاکرات کے تحت شامل ہے۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ موجودہ عالمی محصولات کا ڈھانچہ ترقی پذیر ممالک کی مالی حقیقتوں سے میل نہیں کھاتا، جس سے بین الاقوامی سطح پر ممالک اور ان کے ٹیکس نظام کی شبیہہ متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹرانسفرپرائسنگ کے تنازعات کو حل کرنے میںترقی پذیرممالک کی انتظامیہ کو بہت زیادہ رقم اور وسائل خرچ کرنے ہوتے ہیں۔

سیتا رمن نے کہا کہ ہندوستان نے ٹیکس تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اس میٹنگ میں دو نئے ورکنگ گروپوں کی تشکیل کی بھرپور حمایت کی، جسے برکس رہنماو¿ں کے اعلامیے میں بھی سراہا گیا ہے۔ یہ گروپ معاہدے کی تشریح، ٹرانسفر پرائسنگ آڈٹ اور ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹس (اے پی اے) پر تجربات شیئر کرنے کے لیے ایک مستقل پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ یہ گروپ مالیاتی کارکردگی کی پیمائش کے لیے ایک ایسا فریم ورک بنائے گا جو مغربی یا دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کے نمونوں کو براہ راست مسلط کرنے کے بجائے برکس ممالک کے زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔

سیتا رمن نے زور دے کر کہا کہ اس وقت سرحد پار ٹیکس اور اقوام متحدہ کے ٹیکس تعاون کے فریم ورک کے بارے میں ہونے والی عالمی بات چیت آنے والی پوری نسل کے لیے قوانین کی تشکیل کرے گی۔ لہذا، بڑی ترقی پذیر معیشتوں اور 'ماخذ دائرہ اختیار' کے طور پر، منصفانہ اور پائیدار حکمرانی کے لیے برکس ممالک کا اجتماعی نظریہ ضروری ہے۔

ہندوستان نے ٹیکس انتظامیہ میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر اپنی کامیابی کا اشتراک کیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہندوستان کی طرف سے اپنائے گئے نظام جیسے فیس لیس اسسمنٹ، پہلے سے بھرا ہوا ٹیکس ریٹرن، ریئل ٹائم انوائس کی تصدیق اور اے آئی پر مبنی ٹیکس دہندگان کی مدد نے برکس ممالک کی طرف سے گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ ٹیکس انتظامیہ کو زیادہ درست بناتا ہے اور انفرادی صوابدید کے اثر کو کم کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande