
جموں, 23 ستمبر (ہ س)۔
جموں و کشمیر حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے کالجوں میں تقریباً 22 لاکھ کتابوں اور مطبوعات کی جانچ کے بعد قابل اعتراض مواد پر مشتمل 4,767 کتابیں سرکولیشن سے واپس لے لی ہیں، جن میں 518 ممنوعہ کتابیں بھی شامل ہیں۔
حکومت نے اسمبلی میں عوامی اتحاد پارٹی کے لنگیٹ حلقے کے رکن اسمبلی خورشید احمد شیخ کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ اب تک 21,81,582 کتابوں اور مطبوعات کی جانچ کی گئی ہے۔ ان میں جموں ڈویژن کی 9,32,941 اور کشمیر ڈویژن کی 12,48,641 کتابیں شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جموں خطے سے 293 جبکہ کشمیر وادی سے 4,474 کتابیں سرکولیشن سے واپس لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 1,752 کتابیں ماہرین کی جانچ کے لیے ڈائریکٹر کالجز کو بھیجی گئی ہیں، جن میں جموں کی 538 اور کشمیر کی 1,214 کتابیں شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق کالجوں میں موجود کتابوں میں قابل اعتراض مواد کی نشاندہی کے لیے واضح اور غیر جانب دار معیار اپنایا گیا ہے، تاہم جانچ کا عمل ابھی جاری ہے۔
حکومت نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے تعلیم، تحقیق اور علمی برتری کے مراکز ہیں اور وہاں آئینی اقدار، علمی آزادی، تنقیدی سوچ، سائنسی مزاج، ذمہ دار شہری شعور اور ملک کی خودمختاری، اتحاد و سالمیت کے احترام پر مبنی ماحول کو فروغ دینا ضروری ہے۔
کتابوں کی جانچ کا عمل محکمہ تعلیم اور جامعات کی جانب سے جولائی میں جاری احکامات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ یہ اقدام دو کتابوں کی خریداری پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد کیا گیا، جن میں مبینہ طور پر قابل اعتراض مواد موجود تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر