صنفی مساوات کے لیے وقت مقررہ عملی منصوبہ نافذ کیا جائے : نیلم گورہے
ہر وزارت انتظامی شعبے اور ضلع میں صنفی مساوات کے لیے رابطہ افسر مقرر کرنے کا مطالبہ ممبئی، 23 ستمبر (ہ س)۔ ریاست مہاراشٹر اور ملک میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے واضح اہداف، مقررہ مدت اور جواب دہ نظام پر مشتمل عملی منصوبہ نافذ کیا جائے۔ اس
Gender Equality Action Plan Neelam Gorhe


ہر وزارت انتظامی شعبے اور ضلع میں صنفی مساوات کے لیے رابطہ افسر مقرر کرنے کا مطالبہ

ممبئی، 23 ستمبر (ہ س)۔ ریاست مہاراشٹر اور ملک میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے واضح اہداف، مقررہ مدت اور جواب دہ نظام پر مشتمل عملی منصوبہ نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہر مرکزی وزارت، ریاستی حکومت کے انتظامی شعبے اور ضلع کی سطح پر صنفی مساوات کے لیے رابطہ افسر مقرر کیا جائے۔ یہ مطالبہ قانون ساز کونسل کی رکن اور شیوسینا کی رہنما ڈاکٹر نیلم گورہے نے کیا ہے۔

ڈاکٹر نیلم گورہے نے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور سنیترا اجیت پوار کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی صنفی فرق کی رپورٹ 2026 کے مطابق 145 ممالک میں بھارت کا مقام 131 واں ہے۔ ملک میں خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کی شرح 34.01 فیصد ہے، جبکہ اعلیٰ عہدوں اور انتظامی مناصب پر خواتین کی نمائندگی صرف 11.56 فیصد ہے۔

ڈاکٹر گورہے نے قومی سطح پر 2030 تک خواتین کے روزگار، مساوی اجرت، تعلیم، صحت، تحفظ اور سیاسی نمائندگی کے واضح اہداف مقرر کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے خواتین کے لیے مختص نشستوں کے مؤثر نفاذ، باقاعدہ صنفی اجرت کے جائزے، بچوں کی نگہداشت کے مراکز، محفوظ سفری سہولیات، خواتین کے لیے رہائشی سہولیات، ہنرمندی کی تربیت اور بغیر ضمانت قرض کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ہر ضلع میں خواتین کے لیے سائبر معاونت مرکز قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی، تاکہ خواتین کو سائبر جرائم اور آن لائن مسائل سے متعلق فوری مدد فراہم کی جاسکے۔

مہاراشٹر کے لیے ڈاکٹر گورہے نے چیف سکریٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرکے مہاراشٹر صنفی مساوات مہم شروع کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں اور مقامی خود اختیاری اداروں کے لیے صنفی بنیاد پر بجٹ مختص کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ خواتین کی حفاظت، صحت، روزگار اور ہنرمندی کی ترقی کے لیے بجٹ کا 3 سے 5 فیصد حصہ مختص کیا جائے۔

انہوں نے ہر ضلع کے لیے صنفی مساوات کا نگرانی نظام تیار کرنے اور ہر 3 ماہ بعد اس کی پیش رفت کا جائزہ لینے کی بھی تجویز دی۔ ان کے مطابق اس سے مختلف علاقوں میں خواتین کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی باقاعدہ نگرانی اور ان کے نتائج کا جائزہ ممکن ہوگا۔ ڈاکٹر گورہے نے مہاراشٹر صنعتی ترقیاتی ادارے کے علاقوں میں خواتین کے لیے محفوظ سفری سہولیات، رہائشی سہولیات، بچوں کی نگہداشت کے مراکز اور شکایات کے ازالے کے مراکز قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خواتین کے بچت گروپوں کو بازار اور سرکاری خریداری کے نظام سے جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے قبل از پیدائش تشخیصی تکنیک سے متعلق قانون اور طبی حمل کے خاتمے سے متعلق قانون پر مؤثر عمل درآمد کرنے کے ساتھ عوامی مقامات کا باقاعدگی سے خواتین کی حفاظت کے نقطہ نظر سے جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر نیلم گورہے نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف فلاحی معاملہ نہیں بلکہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیادی بنیاد ہے۔ انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت سے صنفی مساوات کے اقدامات کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande