منشیات اور پی اے سی ایل معاملے میں ای ڈی نے 90 لاکھ روپے سے زائد کی جائیدادیں قرق کیں
نئی دہلی، 19 ستمبر (ہ س)۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منشیات کی اسمگلنگ اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے متعلق دھوکہ دہی کے دو الگ الگ منی لانڈرنگ معاملات میں کارروائی کرتے ہوئے حیدرآباد اور مندسور میں 90 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی غیر منقولہ ج
ED-PACL-NARCOTICS-PROPERTIES-ATTACHED


نئی دہلی، 19 ستمبر (ہ س)۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منشیات کی اسمگلنگ اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے متعلق دھوکہ دہی کے دو الگ الگ منی لانڈرنگ معاملات میں کارروائی کرتے ہوئے حیدرآباد اور مندسور میں 90 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں اور انڈسٹریل انویسٹمنٹ ٹرسٹ لمیٹڈ کے 42.13 کروڑ روپے کے موجودہ مارکیٹ ویلیو والے 29,46,341 ایکویٹی شیئرز قرق کیے ہیں ۔

مندسور معاملے میں تقریباً 70 کروڑ روپے مالیت کی میفیڈرون (ایم ڈی) کی مبینہ غیر قانونی اسمگلنگ سے جرائم کی آمدنی حاصل کیے جانے کا الزام ہے، جبکہ پی اے سی ایل معاملے میں سرمایہ کاروں سے جمع کی گئی رقم مبینہ طور پر شیئرز میں لگائے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔

ای ڈی کے مطابق، ایجنسی کے اندور سب زونل دفتر نے نارکوٹکس ڈرگس اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز ایکٹ، 1985 کے تحت درج مقدمات کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی تھیں۔ وہیں دہلی زونل دفتر کی کارروائی پی اے سی ایل لمیٹڈ اور اس سے وابستہ اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر چلائی گئی بڑے پیمانے کی اجتماعی سرمایہ کاری اسکیم میں دھوکہ دہی کے معاملے میں جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔ پی اے سی ایل معاملے میں ای ڈی پہلے بھی بڑی تعداد میں جائیدادیں قرق کرچکا ہے۔

ای ڈی کے مطابق، اندور کرائم برانچ میں وید پرکاش ویاس، دنیش اگروال، اکشے اگروال اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر کی بنیاد پر انسداد منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت تحقیقات کی گئیں۔ درج شدہ جرم میں تجارتی مقدار میں میفیڈرون رکھنے اور اس کی مبینہ اسمگلنگ کا معاملہ شامل ہے، جس کی مالیت تقریباً 70 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

تحقیقات کے دوران ای ڈی نے پایا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ سے نقد رقم کی شکل میں جرائم کی آمدنی حاصل کی اور اسے متعدد ذاتی اور کاروباری بینک کھاتوں کے ذریعے منتقل کیا۔ مالیاتی تحقیقات میں بڑے پیمانے پر نقد لین دین سامنے آئے، جنہیں ای ڈی نے جرائم کی آمدنی رکھنے، مختلف مراحل میں منتقل کرنے اور چھپانے کے عمل سے جوڑا ہے۔ تحقیقات کے دوران ریکارڈ کیے گئے بیانات میں بھی ملزمان کی معمول کی کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ منشیات کی سپلائی اور اسمگلنگ میں مبینہ ملوث ہونے کی معلومات سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔

ای ڈی نے بتایا کہ اندور اور مندسور میں 17 جولائی 2026 کو متعدد مقامات پر تلاشی کی کارروائی کی گئی تھی۔ اس معاملے میں ای ڈی تین افراد کو گرفتار کرچکا ہے اور وہ فی الحال عدالتی حراست میں ہیں۔ تازہ کارروائی میں حیدرآباد اور مندسور میں واقع 90 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں عبوری طور پر قرق کی گئی ہیں۔

دوسرے معاملے میں ای ڈی کے دہلی زونل دفتر نے پی اے سی ایل لمیٹڈ اور اس سے وابستہ اداروں کی مبینہ اجتماعی سرمایہ کاری اسکیم میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے تحت کارروائی کی ہے۔ تحقیقات کا آغاز نئی دہلی میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے درج ایف آئی آر سے ہوا تھا۔ سی بی آئی نے بعد میں 33 ملزمان کے خلاف فردِ جرم اور ضمنی فردِ جرم داخل کیں۔

سی بی آئی کی چارج شیٹ کے مطابق، متعلقہ اداروں اور افراد نے زرعی اراضی کی فروخت اور ترقی کے نام پر ملک بھر میں لاکھوں سرمایہ کاروں سے 48 ہزار کروڑ روپے سے زائد جمع کیے۔ سرمایہ کاروں کو نقد ادائیگی اور قسطوں پر مبنی اسکیموں کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے راغب کیا گیا اور ان سے معاہدوں، پاور آف اٹارنی سمیت مختلف دستاویزات پر دستخط کرائے گئے۔

ای ڈی کے مطابق، زیادہ تر معاملات میں سرمایہ کاروں کو زمین فراہم نہیں کی گئی اور تقریباً 48 ہزار کروڑ روپے اب بھی سرمایہ کاروں کو واپس کیے جانے باقی ہیں۔ پی اے سی ایل معاملے میں ای ڈی نے 2016 میں ای سی آئی آر درج کی تھی اور 2018 میں استغاثہ کی شکایت داخل کی تھی۔ اس کے بعد 2022، 2025 اور 2026 میں چھ ضمنی استغاثہ کی شکایات داخل کی گئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande