
رانچی، 18 ستمبر (ہ س)۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جے ایس ایس سی-سی جی ایل (اشتہار نمبر 10/2023) سمیت مختلف بھرتی امتحانات اور تقرریوں کو منسوخ کرنے کے ریاستی حکومت کے حکم پر عائد روک کو جمعہ کے روز برقرار رکھا۔ جسٹس دیپک روشن کی عدالت میں آکاش گورو اور دیگر، نیرو ج کھس اور دیگر سمیت متعدد عرضیوں پر سماعت ہوئی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا گیا، جس پر جواب داخل کرنے کے لیے درخواست گزاروں نے عدالت سے وقت مانگا۔ معاملے کی اگلی سماعت 7 اکتوبر کو ہوگی۔
سماعت کے دوران عدالت نے زبانی طور پر کہا کہ محض ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے مستقل تقرری حاصل کرچکے ملازمین کو ملازمت سے برطرف نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اب تک سامنے آئے حقائق سے بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام تقرریاں مکمل طور پر درست طریقے سے نہیں ہوئی ہیں، تاہم اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ تمام تقرریوں میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جے پی ایس سی کو ایک امتحان منعقد کرنے اور تقرری کا عمل مکمل کرنے میں دو سے تین سال تک کا وقت لگ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک ساتھ تقریباً 2,700 تقرریاں منسوخ ہونے سے بڑی تعداد میں افسران اور ملازمین کی ملازمت متاثر ہوگی۔معاملے کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے عدالت نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے سابق جج گوتم کمار چودھری کو مقرر کیا ہے، جبکہ ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر آر کے ملک کو نوڈل افسر بنایا گیا ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل راجیو رنجن، وکیل شریے مشرا، اندرجیت سنہا اور امریتانش وتْس نے عدالت میں اپنا موقف پیش کیا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل روہتاشیہ رائے اور سینئر وکیل میناکشی اروڑہ نے دلائل دیے۔
ریاستی حکومت نے اپنے حلف نامے میں جے ایس ایس سی-سی جی ایل امتحان منسوخ کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق قرار دیا ہے۔ محکمہ پرسنل کے جوائنٹ سکریٹری امر کمار کی جانب سے داخل حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ سی جی ایل کے پورے امتحانی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث خرابی پیدا ہوگئی تھی۔ ایسی صورت میں درست طریقے سے امتحان پاس کرنے والے اور غیر مناسب طریقے سے فائدہ حاصل کرنے والے امیدواروں کے درمیان فرق کرنا ممکن نہیں تھا۔
حکومت نے اپنے موقف کی حمایت میں سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں اور رہنما اصولوں کا حوالہ دیا ہے۔ حلف نامے میں وانشیکھا بنام مرکزی حکومت معاملے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کسی امتحان کا پورا عمل متاثر ہوجائے اور صحیح اور غلط طریقے سے منتخب امیدواروں کے درمیان فرق کرنا ممکن نہ ہو تو پورا امتحان منسوخ کیا جاسکتا ہے۔حلف نامے کے مطابق سی جی ایل امتحان سے متعلق خفیہ امور آئی سی این ٹیکنالوجی کو سونپے گئے تھے، جن میں سوالیہ پرچوں کی طباعت اور انہیں امتحانی مراکز تک پہنچانے سمیت دیگر کام شامل تھے۔ حکومت نے بتایا کہ سی جی ایل امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں کمپنی کے سی ای او سومانس پرکاش سمیت 28 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں 265 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
حکومت کے مطابق تحقیقات میں امتحان کے انعقاد سے وابستہ ایجنسی پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ رقم لے کر امیدواروں کو سوالات کے جوابات رٹوانے اور امتحان میں غیر مناسب فائدہ پہنچانے سے متعلق حقائق تحقیقات کے دوران سامنے آئے ہیں۔ حکومت نے نیپال کے علاوہ آسنسول، کولکاتا، بہار، جھریا اور بوکارو میں بھی ایسے معاملات سامنے آنے کا دعویٰ کیا ہے۔حلف نامے کے مطابق نیپال میں سوالات کے جوابات رٹوائے گئے 28 امیدواروں میں سے 10 امیدوار سی جی ایل امتحان میں کامیاب ہوئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan