
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہرمکھ-گنگبل یاترا کو ہری جھنڈی دکھائی، عقیدت مندوں کو مبارکباد پیش کیسرینگر، 18 ستمبر(ہ س)۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو گاندربل کےکنگن علاقے کے ناراناگ سے سالانہ ہرمکھ-گنگبل یاترا کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا، جس کے ساتھ ہی مقدس گنگبل یاترا کا آغاز ہوا۔ یاترا کو روانہ کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں سے بڑی تعداد میں عقیدت مند اس سالانہ یاترا میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا میں ان سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس مقدس یاترا کی برکات یہاں کے لوگوں پر ہمیشہ قائم رہیں۔ بھگوان کرے کہ جموں و کشمیر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔اس موقع پر رکن پارلیمنٹ میاں الطاف احمد، کنگن کے ایم ایل اے میاں مہر علی اور اعلیٰ سول و پولیس افسران موجود تھے۔ 'ہرمکھ گنگبل ٹرسٹ' کے زیر اہتمام منعقدہ اس سالانہ یاترا میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں کشمیری پنڈت بھی ناراناگ پہنچے۔ واضح رہے سالانہ ہرمکھ-گنگبل یاترا ایک مقدس مذہبی سفر ہے جو کشمیری پنڈتوں اور دیگر عقیدت مندوں کی جانب سے زیادہ بلندی پر واقع گنگبل جھیل تک کیا جاتا ہے۔ عقیدت مند گنگبل جھیل (جسے 'ہرمکت گنگا' یا 'کشمیر کا کیلاش' بھی کہا جاتا ہے) کو بھگوان شیو اور شکتی کا قدیم اور مقدس مقام مانتے ہوئے اس کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ جھیل ہرمکھ پہاڑی سلسلے میں سطح سمندر سے تقریباً 14,500 سے 16,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یاتری جھیل کے کنارے روایتی 'چھڑی پوجا'، ویدک 'یگیہ' اور آباء و اجداد سے متعلق رسومات جیسے کہ 'پنڈ دان' اور 'شراّد' ادا کرتے ہیں۔ یہ یاترا روایتی طور پر ضلع گاندربل کے علاقے کنگن میں واقع تاریخی 'نارانگ مندر' میں دعائیہ تقریبات کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ یاتری پہاڑی اور الپائن (بلند پہاڑی) علاقوں میں دشوار گزار جیسے راستوں سے گزرتے ہوئے تقریباً 15 سے 36 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں۔ یہ یاترا ایک صدی سے زائد عرصے تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد 2009 میں دوبارہ بحال کیا گیا تھا۔ مقامی ضلع انتظامیہ یاتریوں کی حفاظت کے لیے فول پروف سکیورٹی، طبی امداد کے مراکز، آکسیجن سلنڈرز، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور عارضی رہائش کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir