ہائی کورٹ نے ڈوسو انتخابات کے بعد جیت کا جلوس نکالنے پر پابندی عائد کی
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈوسو) کے انتخابات کے بعد کسی بھی قسم کا جیت کا جلوس (وکٹری مارچ) نکالنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے تمام طلبہ تنظیموں اور امیدوا
دہلی ہائی کورٹ فائل فوٹو


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈوسو) کے انتخابات کے بعد کسی بھی قسم کا جیت کا جلوس (وکٹری مارچ) نکالنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے تمام طلبہ تنظیموں اور امیدواروں کو نوٹس جاری کر کے پوچھا ہے کہ لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کی خلاف ورزی کے معاملے میں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے؟

ہائی کورٹ نے 17 ستمبر کو انتخابی مہم کے آخری دن پیش آنے والے تشدد کے واقعے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت کو جرائم پیشہ معاشرے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ سماعت کے دوران عدالت نے دہلی پولیس اور دہلی یونیورسٹی سے سخت لہجے میں استفسار کیا کہ 16 ستمبر کا واقعہ پیش آیا اور نہ آپ نے ایف آئی آر درج کی اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ’’اینف از اینف‘‘ (اب بس بہت ہو چکا)۔ ہم اس قسم کے مجرمانہ رویے کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسے واقعات ہر سال طلبہ یونین کے انتخابات میں رونما ہوتے ہیں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار پرشانت منچندا نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ نے 2025 میں چند رہنما خطوط جاری کیے تھے۔ اس کے باوجود 16 ستمبر کو شدید مار پیٹ اور توڑ پھوڑ ہوئی۔ شرپسند عناصر نے پورے نارتھ کیمپس پر قبضہ کر رکھا تھا، جس کے بعد بعض پروفیسروں اور طلبہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ منچندا نے کہا کہ 16 ستمبر کا دن ڈوسو انتخابات کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔ قانون کے چند طلبہ کو صرف اس لیے زدوکوب کیا گیا کیونکہ وہ تصاویر کھینچ رہے تھے۔ شرپسند عناصر یونیورسٹی کے باہر کے تھے اور ان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں۔

عدالت نے دہلی یونیورسٹی سے دوٹوک کہا کہ آپ کو انتخابات منسوخ کرنے یا انہیں موخر کرنے پر غور کرنا ہوگا۔ طلبہ تنظیمیں بھی اس عرضی میں فریق ہیں۔ جب نوٹس جاری ہوگا، تب ہی وہ عدالت میں پیش ہوں گی۔ عدالت نے کہا کہ انتظامیہ خواہ غیر ذمہ دار ہو، لیکن طلبہ کو ذمہ دار ہونا چاہیے۔ ہم اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ آپ اساتذہ کو پیٹیں اور بندوقیں لہرائیں۔ عدالت نے دہلی یونیورسٹی کو متنبہ کیا کہ اگر آپ حالات پر قابو نہیں پا سکتے تو ہم انتخابات منسوخ کر دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کی اپنی بیٹی اور بھتیجی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان کا کیا ہوگا؟ یہ واقعہ ہر سال دہرایا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران اے ایس جی چیتن شرما نے ہائی کورٹ کے خدشات سے اتفاق کیا۔ قصورواروں پر کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 13 اگست کو ضابطۂ اخلاق نافذ کیا گیا۔ 16 ستمبر کی شام 5 بجے کے بعد کوئی انتخابی مہم نہیں چلائی گئی اور یونیورسٹی کیمپس پوری طرح پرامن ہے۔ اس پر عدالت نے دریافت کیا کہ لیکن اس سے قبل جو کچھ ہوا اس کا کیا؟ تب چیتن شرما نے کہا کہ ہم خاطیوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں تھی؟ اگر وہ ضابطۂ اخلاق کی پامالی کر رہے تھے تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟

ڈوسو کے انتخابات میں 16 ستمبر کو دو طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نے جم کر توڑ پھوڑ کی تھی۔ 16 ستمبر انتخابی مہم کا آخری دن تھا۔ 16 ستمبر کو ہائی کورٹ نے اسی معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کے اسٹوڈنٹ ونگ کا رکن ہونے کی بنیاد پر دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈوسو) انتخابات کے امیدوار کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہندوستھان سماچار

-------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande