ڈوسو انتخابات: این ایس یو آئی کے باغی آزاد امیدوار پر اے بی وی پی کے نام سے جعلی پرچیاں تقسیم کرنے کا الزام، تین افراد پولیس کے حوالے
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) انتخابات کے دوران دیال سنگھ کالج میں این ایس یو آئی کے باغی آزاد امیدوار پر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے نام سے مبینہ طور پر جعلی پرچیاں چھپوا کر تقسیم کرنے کا الزام عائد
ڈوسو انتخابات: این ایس یو آئی کے باغی آزاد امیدوار پر اے بی وی پی کے نام سے جعلی پرچیاں تقسیم کرنے کا الزام، تین افراد پولیس کے حوالے


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔

دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) انتخابات کے دوران دیال سنگھ کالج میں این ایس یو آئی کے باغی آزاد امیدوار پر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے نام سے مبینہ طور پر جعلی پرچیاں چھپوا کر تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ان پرچیوں کے ذریعے طلبہ کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس معاملے میں کالج احاطے سے دو افراد کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل بھی ایک شخص کو پولیس کے سپرد کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

الزامات کے مطابق، دیال سنگھ کالج میں نائب صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے والے این ایس یو آئی کے باغی آزاد امیدوار کے نام والی پرچیاں اے بی وی پی کے نام سے تیار کرائی گئی تھیں۔ مبینہ پرچیوں میں امیدوار کا نام سب سے اوپر نمایاں طور پر درج تھا۔ اسے انتخابی ضابطہ اخلاق کے خلاف قرار دیتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ اس کا مقصد طلبہ کے درمیان امیدوار کی شناخت کے سلسلے میں الجھن پیدا کرنا تھا۔

کالج احاطے میں مبینہ طور پر جعلی انتخابی مواد تقسیم کیے جانے کے دوران دو افراد کو پکڑا گیا اور انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، اس سے قبل بھی ایک شخص کو اسی معاملے میں پولیس کے سپرد کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

اس واقعے کے بعد کالج احاطے میں انتخابی تشہیری مواد اور اس کے استعمال کو لے کر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پولیس کے حوالے کیے گئے افراد سے پوچھ گچھ اور دستیاب مواد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔ تفتیش کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ پرچیاں کس نے تیار کروائی تھیں اور انہیں تقسیم کرنے کے پیچھے کیا مقصد تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande