ٹی ایم سی کا انتخابی نشان منجمد کیے جانے کے وقت پر کانگریس نے اٹھائے سوال، الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ساکھاقرار دیا
کولکاتا، 18 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال پردیش کانگریس کمیٹی نے ترنمول کانگریس کے انتخابی نشان کو منجمد کرنے کے بھارتی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے وقت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس کا الزام ہے کہ کمیشن نے جان بوجھ کر اپنا فیصلہ اس وقت تک مو¿خر ر
ٹی ایم سی کا انتخابی نشان منجمد کیے جانے کے وقت پر کانگریس نے اٹھائے سوال، الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی شاکھاقرار دیا


کولکاتا، 18 ستمبر (ہ س)۔

مغربی بنگال پردیش کانگریس کمیٹی نے ترنمول کانگریس کے انتخابی نشان کو منجمد کرنے کے بھارتی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے وقت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس کا الزام ہے کہ کمیشن نے جان بوجھ کر اپنا فیصلہ اس وقت تک مو¿خر رکھا، جب تک ریجی نگر اور نندی گرام اسمبلی ضمنی انتخابات کے لیے نامزدگی کا عمل ختم نہیں ہو گیا۔

مغربی بنگال کانگریس کے صدر شوبھنکر سرکار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس کے انتخابی نشان کا تنازع کافی عرصے سے زیر التوا تھا اور الیکشن کمیشن کو اسے بہت پہلے ہی حل کر لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنا فیصلہ عین اسی دن سنایا، جس دن دونوں ضمنی انتخابات کے لیے نامزدگی کا عمل ختم ہوا اور جانچ پڑتال کا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا۔ سرکار نے کہا کہ اس اقدام سے کمیشن کے ارادوں پر گہرے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

کانگریس رہنما نے کثیر جماعتی پارلیمانی نظام کے تئیں اپنی پارٹی کی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسابقت اور نظریاتی اختلافات جمہوریت کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو شکست دینی ہے تو ہم پارلیمانی جمہوریت کے ذریعے ایسا کریں گے۔ اگر کسی سیاسی جماعت کو ختم ہونا ہے تو یہ بنگال کے عوام کے فیصلے سے ہوگا۔

مہاراشٹر میں شیوسینا تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے شوبھنکر سرکار نے الیکشن کمیشن پر ترنمول کے معاملے میں اسی طرح کا کردار ادا کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کی ایک شاخ تنظیم کی طرح کام کر رہا ہے اور ایک مخصوص سیاسی جماعت کو انتخابی میدان سے باہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اسے پارلیمانی جمہوریت کے لیے ایک انتہائی خطرناک اشارہ قرار دیتے ہوئے فیصلے کی سخت مذمت کی۔

اس کے ساتھ ہی پردیش کانگریس صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ ترنمول کانگریس کے خلاف کانگریس کی سیاسی مخالفت پہلے کی طرح برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لڑائی ترنمول کانگریس کی سیاسی نظریے کے خلاف ہے، جو آئندہ بھی جاری رہے گی۔

انہوں نے ریاستی حکومت پر بدانتظامی، کانگریس کے دفاتر پر قبضہ کرنے اور اپنے کئی کارکنوں کے قتل کا الزام بھی عائد کیا۔ تاہم، انہوں نے دلیل دی کہ محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کا بی جے پی کے اشارے پر کام کرنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا یہ غلامانہ رویہ جمہوریت کی بنیاد کو کمزور کر رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande