ایشیائی کھیل: عالمی کپ سے حاصل ہونے والے تجربات سے طلائی تمغے کا دفاع کرنے اترے گی ہندوستانی مردوں کی ہاکی ٹیم
نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س): ۔ ایف آئی ایچ ہاکی عالمی کپ میں آٹھویں مقام پر رہنے کے بعد ہندوستانی مردوں کی ہاکی ٹیم نے اب اپنے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے جاپان میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں میں اپنے طلائی تمغے کا دفاع کرنے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ایشی
ایشیائی کھیل: عالمی کپ سے حاصل ہونے والے تجربات سے طلائی تمغے کا دفاع کرنے اترے گی ہندوستانی مردوں کی ہاکی ٹیم


نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س): ۔

ایف آئی ایچ ہاکی عالمی کپ میں آٹھویں مقام پر رہنے کے بعد ہندوستانی مردوں کی ہاکی ٹیم نے اب اپنے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے جاپان میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں میں اپنے طلائی تمغے کا دفاع کرنے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔

ایشیائی کھیلوں کا خطاب ہندوستان کے لیے 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں براہِ راست کوالیفائی کرنے کے لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

ہرمَن پریت سنگھ کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم جاپان پہنچ چکی ہے اور اتوار کو انڈونیشیا کے خلاف ہونے والے اپنے ابتدائی مقابلے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

ٹیم کے ہیڈ کوچ کریگ فلٹن نے ٹیم کی تیاریوں، عالمی کپ کے بعد دوبارہ میدان میں واپسی، ماؤنٹ فوجی میں منعقدہ ٹیم سازی کے کیمپ اور ایشیائی کھیلوں کی حکمتِ عملی پر تفصیل سے گفتگو کی۔

عالمی کپ اور ایشیائی کھیلوں کے درمیان کم وقت ملنے کے باوجود فلٹن نے کہا کہ ٹیم دوبارہ میدان میں اترنے کے لیے پُرجوش ہے۔ انہوں نے ماؤنٹ فوجی میں باڈنگ کیمپ کو مشکل لیکن بہت کچھ سکھانے والا تجربہ قرار دیا۔

انہوں نے ہاکی انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”عالمی کپ اور ایشیائی کھیلوں کے درمیان ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں تھا، لیکن ہم دوبارہ شروعات کرنے کے لیے واقعی بہت پُرجوش ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس کی شروعات ایک مشکل لیکن انتہائی سبق آموز تجربے سے ہوئی۔

جب آپ دنیا کے کسی ایسے حصے میں جاتے ہیں جہاں آپ سب پہلے کبھی ایک ساتھ نہیں گئے ہوں اور ماؤنٹ فوجی جیسی جگہ کا تجربہ کرتے ہیں تو اس سے کھلاڑیوں کو انفرادی اہداف کے بجائے ٹیم پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ہم اسی پہلو کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“

عالمی کپ کے بعد ٹیم کے دوبارہ متحد ہونے کے سوال پر فلٹن نے کہا، ”دیکھیے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں وہ کام کرنے کا موقع مل رہا ہے جو ہم کرنا چاہتے ہیں، اور یہ ہمارے لیے بہت بڑی خوش قسمتی ہے۔ ہمیں اس کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے۔

عالمی کپ میں جو کچھ ہوا، اس کا جائزہ لیتے ہوئے ہم نے ان پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے جن پر اس ٹورنامنٹ میں ہمیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اب ہم براہِ راست ان اصلاحات پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں اور ایک ٹیم کی حیثیت سے انہیں عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔راج کمار پال ٹیم میں شامل ہو گئے ہیں، جب کہ آدتیہ ارجن لالگے ٹیم سے باہر ہو گئے ہیں۔ اب ہم اتوار کو ایک نئے ٹورنامنٹ کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔“ عالمی کپ میں آٹھویں مقام پر رہنے کے بارے میں فلٹن نے کہا کہ ٹیم کو اس تجربے سے سبق حاصل کرکے اسے میدان میں عملی طور پر نافذ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا، ”یہ سب ہمارے لیے سبق ہیں اور ان سے واقعی فائدہ اٹھانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ حاصل ہونے والے تجربات کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ اب ہمیں یہی کرنا ہے۔ہم نے ہر پہلو پر تبادلہ خیال کیا ہے، تمام معاملات کا جائزہ لیا ہے اور ان شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں بہتری کی ضرورت ہے۔ اب تربیت کے بعد ان اصلاحات کو عملی شکل دینے کا وقت ہے، کیونکہ اتوار کو ہم اپنے پہلے میچ کے لیے میدان میں اتریں گے۔“

ایشیائی کھیلوں کے گروپ مرحلے میں نسبتاً یک طرفہ مقابلوں کے باوجود ٹیم کی رفتار اور سنجیدگی برقرار رکھنے کے بارے میں فلٹن نے کہا، ”ہم جس بھی ٹیم کے خلاف کھیلیں گے، اس کا پورا احترام کریں گے۔ کسی حریف کا حقیقی احترام کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ اس کے خلاف اپنی سو فیصد صلاحیت کے ساتھ کھیلیں۔

ہم نے تمام ٹورنامنٹس میں ایسا ہی کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ اس لیے آپ ہم سے یقیناً یہی توقع رکھ سکتے ہیں۔“

گزشتہ ایشیائی کھیلوں اور اس مرتبہ ہونے والے مقابلوں کے درمیان فرق کے بارے میں فلٹن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ اس بار صورتِ حال بہت مختلف ہے۔ یہ اب بھی ایشیائی کھیل ہی ہیں، لیکن پس منظر بالکل الگ ہے۔

گزشتہ ایشیائی کھیلوں سے پہلے ہم نے ہندوستان میں ایشیائی چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لیا تھا۔ اس لیے ایشیائی کھیلوں میں جانے سے پہلے ہم تمام ایشیائی ٹیموں کے خلاف کھیل چکے تھے۔ اس بار ایشیائی کھیلوں سے پہلے ہم نے عالمی کپ میں حصہ لیا ہے۔“

ہندوستانی ٹیم کے پاس ایشیائی کھیلوں میں مسلسل دوسری مرتبہ طلائی تمغہ جیت کر تاریخ رقم کرنے کا موقع ہے۔ اس کے علاوہ خطاب جیتنے کی صورت میں ٹیم 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کے لیے براہِ راست کوالیفائی بھی کر سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande