
نئی دہلی/بنگلورو، 16 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بدھ کو کہا کہ ٹیکس پالیسی پر بحث کو چھوٹے شعبوں کے مفادات سے اوپر اٹھ کر بڑے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے بنگلورو میں منعقدہ ’انٹرنیشنل ٹیکس ریسرچ اینڈ اینالیسس فاؤنڈیشن‘ (آئی ٹی آر اے ایف) کے زیر اہتمام ’نیو ایج ٹیکسیشن‘ کے موضوع پر آٹھویں بین الاقوامی ٹیکس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تجاویز میں الگ الگ شرحوں میں کٹوتی یا رعایت کے بجائے طویل مدتی ترقی کے اہداف پر توجہ دینی چاہیے۔ وزیر نے ماہرین تعلیم، محققین اور تھنک ٹینکس سے کہا کہ وہ آزادانہ ٹیکس پالیسی تحقیق کو عوامی بحث کا باقاعدہ حصہ بنائیں، تاکہ اس کی جانچ کی جا سکے، اس پر سوال اٹھائے جا سکیں اور اس میں بہتری لائی جا سکے۔
مرکزی وزیرخزانہ نے کہا کہ ٹیکس پالیسی پر آزادانہ تحقیق کو عوامی مباحثے کا حصہ بننا چاہیے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس ماہرین کو علاقائی مفادات سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ سیتا رمن نے کہا کہ بھارت میں ٹیکس کے شعبے میں اعلیٰ سطح کے پیشہ ور افراد اور ماہرین موجود ہیں، لیکن ان کی مہارت کو یکجا کرکے پالیسی کے متبادل اقدامات میں تعاون کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔
سیتا رمن نے آئی ٹی آر اے ایف سے آزادانہ ٹیکس پالیسی تحقیق کو زیادہ نمایاں طور پر سامنے لانے اور اسے پالیسی سازی اور عوامی مباحثے سے براہ راست جوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو دی جانے والی ٹیکس سے متعلق تجاویز میں شرحوں میں کٹوتی، چھوٹ یا رعایت کا مطالبہ کرنے کے بجائے ملک کے مفاد کو سب سے اوپر رکھا جانا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے اپنی وزارت کی بجٹ سے قبل ہونے والی مشاورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مشاورتوں سے ایسے بڑے سوالات اٹھنے چاہئیں کہ ’وکست بھارت 2047‘ کی جانب بڑھتے ہوئے اگلی دو دہائیوں میں بھارت میں کس طرح کا ٹیکس نظام ہونا چاہیے۔ انہوں نے بہتر ٹیکس تحقیق پر زور دیا، جو تمام پہلوؤں پر غور کرے۔ ساتھ ہی اس کے اثرات کی پیمائش کرے، ٹریڈ آف (فوائد اور نقصانات کے درمیان توازن) کو سمجھے، سرکاری خزانے کو ہونے والے ہر ممکنہ محصولات کے نقصان کے لیے عملی متبادل تجویز کرے اور حکومت کو ایسے متبادل تیار کرنے میں مدد دے، جن سے ایک بہتر ٹیکس پالیسی تشکیل دی جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد