ایشیائی کھیل: ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم کو کوچ ماریجن کا پیغام- سونے کے تمغے کے لیے پھر لڑنا ہوگا
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم ایشیائی کھیل 2026 میں 44 برس کے طلائی تمغے کے انتظار کو ختم کرنے اور لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے لیے براہِ راست کوالیفائی کرنے کے ارادے سے جاپان پہنچ چکی ہے۔ ورلڈ کپ 2026 میں تاریخی پانچویں پوزیشن
ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم کے کوچ شجورڈ ماریجن


نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم ایشیائی کھیل 2026 میں 44 برس کے طلائی تمغے کے انتظار کو ختم کرنے اور لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے لیے براہِ راست کوالیفائی کرنے کے ارادے سے جاپان پہنچ چکی ہے۔ ورلڈ کپ 2026 میں تاریخی پانچویں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد ٹیم کا اعتماد بڑھا ہے، لیکن چیف کوچ شجورڈ ماریجن نے کھلاڑیوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ ورلڈ کپ کی کامیابی اب پیچھے چھوٹ چکی ہے اور ایشیائی کھیلوں میں سونے کے تمغے کے لیے انہیں پھر سے پوری طاقت لگانی ہوگی۔

ہندوستانی خواتین ٹیم نے 1982 کے بعد ایشیائی کھیلوں میں صرف ایک بار طلائی تمغہ جیتا ہے۔ ایسے میں جاپان میں ہونے والے مقابلے ٹیم کے لیے تاریخ رقم کرنے کا موقع ہیں۔ ورلڈ کپ میں پانچویں پوزیشن کے طور پر ہندوستان نے 52 برسوں میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

ماریجن نے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد بنگلورو میں کھلاڑیوں کو ایکٹو ریسٹ دیا گیا اور جاپان پہنچنے کے بعد ٹیم وقت کے فرق (ٹائم زون) سے ہم آہنگی پیدا کرنے اور تربیت میں تیزی لانے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم بہت خوبصورت ماحول میں ہیں اور اب ہر کوئی ایشیائی کھیلوں پر پوری طرح توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔‘‘

جسمانی تیاری کے بارے میں ماریجن نے بتایا کہ ڈاکٹر وین لومبارڈ اور ان کی ٹیم کھلاڑیوں کے لیے فزیکل پروگرام تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف زیادہ سے زیادہ تربیت کرنا ہی اہم نہیں ہے بلکہ آرام، اس کا درست طریقہ کار اور اسٹرینتھ سیشنز بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’وین کھلاڑیوں کی نگرانی کرتے ہیں کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں، ان کی نیند کیسی ہے اور کیا وہ تازہ دم ہیں۔ اسٹاف کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹریننگ کی شدت کتنی رکھی جا سکتی ہے۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ میرے سیشن میں توانائی اور شدت کی سطح کتنی ہو سکتی ہے۔‘‘

ورلڈ کپ کی کامیابی کو پیچھے چھوڑنے کے حوالے سے ماریجن نے کہا کہ انہوں نے جاپان روانگی سے قبل بنگلورو میں کھلاڑیوں کے لیے خصوصی جاپانی کھانے کا انتظام کرایا اور اس دوران ٹیم سے ورلڈ کپ کے تجربے کو ایک بار پھر یاد کرنے کے بعد اگلے باب پر توجہ مرکوز کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کچھ شاندار اور تاریخی کیا ہے لیکن اب ہمیں اگلے ٹورنامنٹ کی طرف بڑھنا ہوگا۔ میں نے کھلاڑیوں سے کہا کہ زندگی میں بعد میں وہ ورلڈ کپ کو یاد کریں گی کہ ہم نے کتنا شاندار مظاہرہ کیا تھا لیکن آپ کو ایک باب بند کر کے اگلے باب کی طرف بڑھنا ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ویڈیو اینالسٹ نے ورلڈ کپ کے گول اور یادگار لمحات کو شامل کرتے ہوئے ایک فلم تیار کی، جس کی آخری سلائیڈ پر ’ایشیائی کھیلوں کی راہ‘ لکھا تھا۔ ماریجن نے کھلاڑیوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ کامیابی خود بخود نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا، ’’کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ آپ کو اس کے لیے دوبارہ لڑنا ہوگا اور پہلے سے بھی زیادہ محنت کرنی ہوگی۔‘‘

ورلڈ کپ میں ڈیبیو کرنے والی 11 کھلاڑیوں کے تجربے پر ماریجن نے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے مختلف کھیلوں کی ثقافتوں اور اسالیب کا سامنا کیا ہے، جس سے ٹیم مستقبل کی تیاری میں فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ورلڈ کپ کے بعد بطور ٹیم بہتری لانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ میں مزید بہتری چاہتا ہوں کیونکہ اگر ہم یہ سوچ کر رک جاتے ہیں کہ ہم وہاں پہنچ چکے ہیں تو یہ وہی پہلا مرحلہ ہوتا ہے جہاں سے بہتری رک جاتی ہے۔‘‘

ایشیائی کھیلوں میں سویتا کے ہندوستانی خاتون کھلاڑی کے طور پر سب سے زیادہ بین الاقوامی میچ کھیلنے کا ریکارڈ بنانے کے سوال پر ماریجن نے کہا کہ ٹیم انفرادی کامیابیوں سے زیادہ اجتماعی ہدف پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سویتا انتہائی پیشہ ور ہیں اس لیے مجھے اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی ٹیم پر سب سے زیادہ توجہ دیتی ہے تو وہ سویتا ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ باقی کھلاڑی بھی ان کے لیے مزید محنت کرنا چاہتی ہیں۔ ہم ایک ٹیم کے طور پر پوری طرح مرکوز ہیں، انفرادی کامیابیوں پر نہیں۔ ہم جشن بھی ٹیم کی حیثیت سے مناتے ہیں۔‘‘

ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم کی مضبوط دفاعی لائن اور جرمنی پر 1-3 کی جیت سے ملنے والے اعتماد پر ماریجن نے کہا کہ ان مقابلوں نے ٹیم کو بھروسہ دیا ہے کہ اس کی تیاری اور کھیلنے کا طریقہ کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل محنت کے بغیر وہی چیزیں آگے بھی کام کریں گی، اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بنیادی باتیں درست ہونی چاہئیں۔ دوڑنا، کھیل کی رفتار اور شدت اور یہ تمام چھوٹی چھوٹی چیزیں انتہائی اہم ہیں۔‘‘

ایشیائی کھیلوں میں چین سے ملنے والے چیلنج کے بارے میں ماریجن نے کہا کہ ٹیم حکمت عملی بناتے وقت کسی مخصوص ملک پر زیادہ دھیان نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا، ’’میں ٹیم سے بات کرتے وقت چین، جاپان یا کوریا جیسے ممالک کے نام کا استعمال بہت کم کرتا ہوں۔ ہم خود پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ دوسرے ممالک کیا کر رہے ہیں، اس میں میری کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہمیں اپنا کھیل بہت عمدگی سے پیش کرنا ہے اور پھر نتیجہ بھی بہتر برآمد ہو سکتا ہے۔‘‘

ہندوستان میں خود کو ’چک دے‘ کوچ کہے جانے پر ماریجن نے کہا کہ ان کے لیے کھلاڑیوں، اپنے اسٹاف، ہاکی انڈیا اور اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ساتھ مضبوط تعلقات سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں ہندوستان میں خود کو بہت محترم اور پزیرائی یافتہ محسوس کرتا ہوں۔ ہر شخص کو یہ اچھا لگتا ہے۔ ’چک دے انڈیا‘ سے وابستہ کہانیاں سننا بھی شاندار ہے۔ لڑکیاں بھی کبھی کبھار اس بارے میں بات کرتی ہیں اس لیے یہ کافی پرلطف لگتا ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande