وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ویدانتا دہلی ہاف میراتھن کے فنشر میڈل کی نقاب کشائی کی
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ ورلڈ ایتھلیٹکس گولڈ لیبل ریس-ویدانتا دہلی ہاف میراتھن کے 21ویں ایڈیشن کے باوقار فنشر میڈل کی بدھ کو نقاب کشائی کی گئی۔ دہلی سکریٹریٹ میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اس میڈل کی نقاب کشائی کی۔ یہ میڈل ہر رنر کے لیے کامیابی اور
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ویدانتا دہلی ہاف میراتھن 2026 کے فنشر میڈل کی نقاب کشائی کی


نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ ورلڈ ایتھلیٹکس گولڈ لیبل ریس-ویدانتا دہلی ہاف میراتھن کے 21ویں ایڈیشن کے باوقار فنشر میڈل کی بدھ کو نقاب کشائی کی گئی۔ دہلی سکریٹریٹ میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اس میڈل کی نقاب کشائی کی۔ یہ میڈل ہر رنر کے لیے کامیابی اور فنش لائن تک پہنچنے کی اس کی محنت کی علامت ہے۔

ویدانتا دہلی ہاف میراتھن کا انعقاد اتوار، 18 اکتوبر 2026 کو باوقار جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم سے شروع ہوگا۔ ہندوستان اور دنیا بھر سے ہزاروں رنرز دارالحکومت کی سڑکوں پر ایک ہی ہدف کے ساتھ اتریں گے، اور وہ ہدف ہوگا فنش لائن پار کرنا اور اپنا میڈل حاصل کرنا۔

گزشتہ دو دہائیوں میں یہ تقریب دہلی کی کھیلوں کی شناخت کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ یہ فٹنس، شراکت داری اور دوڑ کے جذبے کے جشن کے طور پر پورے شہر کو ایک ساتھ لاتی ہے۔ کئی معنوں میں اس کا پائیدار ورثہ ایک فٹ اور صحت مند ہندوستان کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے، جسے وزیر اعظم کی قیادت میں ’فٹ انڈیا موومنٹ‘ کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’صحت، فٹنس، خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت داری اور وسیع تر سماجی و اقتصادی نیز فلاحی اثرات پر مرکوز ویدانتا دہلی ہاف میراتھن قومی دارالحکومت کے لیے ایک اہم پیش رفت بن چکی ہے۔ شرکاء کا جوش و خروش اور خوشی واقعی حوصلہ افزا ہے اور دہلی حکومت اس تقریب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، تاکہ اس ایڈیشن کو مزید کامیاب بنایا جا سکے۔‘‘

کپل مشرا (وزیر برائے محنت، روزگار اور سیاحت، حکومتِ دہلی) نے اس موقع پر کہا، ’’ویدانتا دہلی ہاف میراتھن دہلی کے سالانہ کیلنڈر کا ایک اہم پروگرام بن چکی ہے، جو ملک اور دنیا کے مختلف خطوں کے لوگوں کو یکجا کرتی ہے۔ دہلی حکومت اور دہلی ٹورازم ایسے کھیلوں کے پروگراموں کو فروغ دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، جو دہلی کو بطور سیاحتی مقام مزید مستحکم کرتے ہیں۔ ہم 18 اکتوبر کو ہونے والے اس ایڈیشن کو شاندار طور پر کامیاب بنانے کے لیے پرامید ہیں۔‘‘

ویدانتا دہلی ہاف میراتھن کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے سال 2026 کا فنشر میڈل ہندوستان کے زرخیز قدرتی ورثے اور ہر رنر کے انفرادی سفر کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ میڈل اعلیٰ معیار کے زنک سے تیار کیا گیا ہے، جسے ادے پور میں واقع تاریخی جاور مائنز سے حاصل کیا گیا ہے۔ جاور مائنز دنیا کے قدیم ترین زنک کانکنی کے علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس میڈل کو ویدانتا گروپ کی کمپنی ہندوستان زنک لمیٹڈ نے تیار کیا ہے۔

اپنے نئے اور پرکشش ڈیزائن کے ساتھ سال 2026 کا فنشر میڈل فنش لائن عبور کرنے والے ہر رنر کی کامیابی کا جشن مناتا ہے۔ یہ محض ریس کے دن ملنے والی یادگار ہی نہیں، بلکہ ہر شریک کی محنت، عزمِ مصمم اور ذاتی فتح کا مظہر ہے، جو فنش لائن تک پہنچنے کو باوقار بناتی ہے۔

میڈل کی نقاب کشائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اس ریس کو دہلی والوں کی جانب سے بے مثال پذیرائی مل رہی ہے۔ ہاف میراتھن کے لیے رجسٹریشن محض 100 گھنٹوں میں بند ہو گئی، جو اس ایونٹ کی تاریخ میں تیز ترین رجسٹریشن کا اختتام ہے۔ ’دی گریٹ دہلی رن‘، ’چیمپئنز ود ڈس ایبلٹی‘ اور ’سینئر سٹیزن رن‘ کو بھی زبردست رسپانس ملا ہے اور ان کی رجسٹریشنز تیزی سے مکمل ہو رہی ہیں۔

یہ دہلی میں فٹنس اور دوڑ کے تئیں بڑھتے ہوئے شوق کی عکاسی کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ویدانتا دہلی ہاف میراتھن کس طرح ایک ایسے جشن میں تبدیل ہو گئی ہے، جو رفتار، شمولیت اور مقصد کے ذریعے پورے شہر کو آپس میں جوڑتا ہے۔

آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے چیف مارکیٹنگ آفیسر شری پد شینڈے نے کہا، ’’ہر رنر کے لیے فنشر میڈل اس بات کی ٹھوس یاد دہانی کراتا ہے کہ بڑی کامیابیاں تسلسل، نظم و ضبط اور استقامت سے حاصل ہوتی ہیں۔ میراتھن کی طرح مالی خوشحالی کا سفر بھی قدم بہ قدم آگے بڑھتے ہوئے طے ہوتا ہے- واضح اہداف اور مسلسل پیش قدمی کے عزم کے ساتھ۔ گزشتہ برسوں کے دوران ویدانتا دہلی ہاف میراتھن محض ایک دوڑ نہیں رہ گئی، بلکہ یہ فٹنس، عزم اور اجتماعی خوشحالی کا جشن منانے والی ایک تحریک بن چکی ہے۔ آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک میں ہمارا صارف مرکوز نقطۂ نظر طویل مدتی ترقی کو ممکن بنانے پر مبنی ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہم ایک ایسی تقریب کی حمایت کر رہے ہیں، جو لوگوں کو خود کو چیلنج کرنے اور ایک فٹ نیز صحت مند ہندوستان کی تعمیر کے لیے ترغیب دیتی ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande