
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س): ۔
سپریم کورٹ نے رام مندر کے چڑھاوے کی چوری کا انکشاف کرنے والے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کی تلاش میں اتر پردیش پولیس کی جانب سے دہلی کے سابق میئر فرہاد سوری کی دہلی واقع رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے کے معاملے میں غازی آباد کے پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے فرہاد سوری سے کہا کہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے پہلے متعلقہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت براہِ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرنا مناسب نہیں ہے۔
عدالت نے بین ریاستی پولیس چھاپوں کے لیے رہنما اصول وضع کرنے کی متبادل درخواست پر بھی غور کرنے سے انکار کردیا۔
غازی آباد پولیس نے ابھیشیک اپادھیائے کے خلاف روڈ ریج کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس معاملے میں 25 اگست کو سپریم کورٹ نے اپادھیائے کو عبوری تحفظ فراہم کیا تھا۔
فرہاد سوری نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ 22 اور 23 اگست کی درمیانی شب غازی آباد پولیس بغیر کسی وارنٹ کے دہلی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ابھیشیک اپادھیائے کی تلاش میں پہنچی اور وہاں تلاشی لی۔ سوری نے پولیس کی اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعلقہ غازی آباد پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ