پیٹ کمنز نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میں شکست کی وجہ بتا دی، خراب تیاری کی بات کو خارج کیا
سڈنی، 15 ستمبر (ہ س)۔ آسٹریلیا کے ٹیسٹ کپتان پیٹ کمنز نے بنگلہ دیش کے خلاف اگست میں ہونے والی حیران کن ٹیسٹ شکست کی وجہ خراب تیاری کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ آسٹریلیا کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے میں نو وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا
کمنس


سڈنی، 15 ستمبر (ہ س)۔ آسٹریلیا کے ٹیسٹ کپتان پیٹ کمنز نے بنگلہ دیش کے خلاف اگست میں ہونے والی حیران کن ٹیسٹ شکست کی وجہ خراب تیاری کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ آسٹریلیا کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے میں نو وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے اننگز اور بھاری مارجن سے کامیابی حاصل کی۔

کمنز نے کہا کہ اگر یہ سیریز بنگلہ دیش کے بجائے انگلینڈ کے خلاف ایشز جیسی بڑی سیریز ہوتی، تب بھی آسٹریلوی ٹیم کی تیاری میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

انہوں نے ’کیپ ان اٹ کرکٹ‘ پوڈکاسٹ میں کہا، ’’چاہے یہ ایشز ٹیسٹ ہوتا یا بنگلہ دیش سیریز، میرے خیال میں ہم بالکل اسی انداز میں تیاری کرتے۔ یقیناً سیریز کے بعد آپ اس کا جائزہ لیتے ہیں، لیکن مجھے حقیقت میں لگا کہ ہم اچھی پوزیشن میں تھے۔ ہر کھلاڑی فٹ تھا اور مکمل طور پر تیار تھا۔‘‘

پہلے ٹیسٹ میں کیا غلط ہوا، اس سوال پر کمنز نے براہِ راست جواب دیتے ہوئے کہا، ’’میرے خیال میں ہم نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ تیاری کی کمی تھی۔ میرے خیال میں ہم اپنی بہترین کارکردگی پیش نہیں کر سکے اور بنگلہ دیش نے شاندار کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے ہمیں حقیقتاً واپسی کا کوئی موقع نہیں دیا۔‘‘

آسٹریلیا کی اگلی ٹیسٹ مہم جنوبی افریقہ کے خلاف تین میچوں کی سیریز سے شروع ہوگی۔ تاہم کمنز اس سے قبل زمبابوے کے خلاف ہونے والی ون ڈے سیریز میں نہیں کھیلیں گے۔

جنوبی افریقہ کا یہ دورہ 2018 کے ’سینڈ پیپر گیٹ‘ تنازع کے بعد آسٹریلیا کی ٹیسٹ کرکٹ میں وہاں واپسی بھی ہوگا۔ تاہم کمنز کو امید نہیں ہے کہ پرانا تنازع آئندہ ٹیسٹ سیریز پر حاوی رہے گا۔

انہوں نے کہا، ’’کچھ حد تک دشمنی ہو سکتی ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے فوراً وضاحت کی، ’’ہر کوئی آگے بڑھ چکا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ تین ٹیسٹ میچ ہیں، آپ کرکٹ پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور بہت جلد ہر کوئی صرف کرکٹ کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔‘‘

کمنز نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ شائقین میں کچھ لوگ کافی شور مچائیں گے اور کچھ مضامین یا میڈیا دوبارہ پرانی باتوں کو سامنے لا سکتے ہیں۔ لیکن ہماری ٹیم اس واقعے سے آگے بڑھ چکی ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande