جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کے مشق کے بعد شمالی کوریا کا جوابی مشق ، توپ خانے اور میزائل یونٹس کا استعمال
سیول، 14 ستمبر (ہ س)۔ جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان کے درمیان پانچ روزہ مشترکہ فوجی مشق کے اختتام کے بعد شمالی کوریا نے توپ خانے اور میزائل یونٹس کے ساتھ بڑے پیمانے پر ’فائر پاور اسٹرائیک ڈرل‘ کی۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے پیر کو اس فوجی مشق ک
توپ خانے اور میزائل یونٹس


سیول، 14 ستمبر (ہ س)۔ جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان کے درمیان پانچ روزہ مشترکہ فوجی مشق کے اختتام کے بعد شمالی کوریا نے توپ خانے اور میزائل یونٹس کے ساتھ بڑے پیمانے پر ’فائر پاور اسٹرائیک ڈرل‘ کی۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے پیر کو اس فوجی مشق کی اطلاع دی۔

جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق، یہ رپورٹ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے اس بیان کے دو روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ شمالی کوریا نے وونسان کے علاقے سے مشرقی سمندر کی جانب کئی مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 12 ستمبر کو کورین پیپلز آرمی کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے اور میزائل یونٹس نے مشترکہ فائر پاور اٹیک ڈرل میں حصہ لیا۔

مشق میں توپ خانے اور میزائل کی پانچ مشترکہ یونٹس سے منتخب ذیلی یونٹس شامل تھیں۔ اس دوران کئی جدید ہتھیاروں کے نظام کا مظاہرہ کیا گیا، جن میں مختلف اقسام کے اٹیک ڈرونز، ٹیکٹیکل کروز میزائل، بڑے کیلیبر والے تھرمل پریشر ملٹی پل راکٹ لانچر اور ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل شامل تھے۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ تمام اسٹرائیک ہتھیاروں کے نظام نے اپنے مقررہ اہداف کو 100 فیصد درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ شمالی کوریا نے اس مشق کو اپنی فائر پاور اور مختلف فوجی یونٹس کے درمیان رابطہ کاری کی صلاحیت کا مظاہرہ قرار دیا۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اس ڈرل میں موجود نہیں تھے۔ مشق کی نگرانی شمالی کوریا کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین پاک جونگ چون نے کی۔ وہیں، شمالی کوریا کی فوج کے آرٹلری بیورو کے ڈائریکٹر یو چانگ سن نے کہا کہ اس طرح کی عملی مشقوں سے دشمن کے خلاف جوابی کارروائی کی تیاری اور فوجی مہارت کو مضبوط کیا جائے گا۔

ہفتے کے روز کیا گیا میزائل لانچ اس سال شمالی کوریا کا 13واں بیلسٹک میزائل تجربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے حکام کے اندازے کے مطابق، داغے گئے میزائل ہواسونگ-11 سیریز کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 600 ملی میٹر کے سپر لارج ملٹی پل راکٹ لانچر سے بھی گولے داغے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

شمالی کوریا عام طور پر میزائل لانچ کے اگلے روز اس کی معلومات عام کرتا ہے۔ تاہم، اس بار رپورٹ صرف کے سی این اے میں شائع ہوئی اور ملکی ناظرین کے لیے اہم میڈیا ادارے رودونگ سنمن میں اسے جگہ نہیں دی گئی۔

جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان نے جمعہ کو جنوبی کوریا کے جزیرہ جیجو کے مشرق اور جنوب میں بین الاقوامی پانیوں میں اپنی پانچ روزہ ’فریڈم ایج‘ فوجی مشق مکمل کی تھی۔

شمالی کوریا نے اس مشق پر سخت تنقید کی ہے۔ اس کے وزیر دفاع کم سونگ گی نے امریکہ کی قیادت میں ہونے والی فوجی مشقوں کو اشتعال انگیز کارروائی قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات کی وارننگ دی۔

تاہم، امریکہ اور جنوبی کوریا نے گزشتہ ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت کے بعد اپنی سالانہ ’اولچی فریڈم شیلڈ‘ (UFS) مشق کو محدود کر دیا تھا، لیکن امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی ’فریڈم ایج‘ مشق طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوئی۔

اس دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔ ایسے میں ایک جانب فوجی کشیدگی اور دوسری جانب ممکنہ سفارتی رابطے کی کوششوں کے درمیان جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande