ہرمز کے نئے سمندری راستے پر علاقائی اجلاس ملتوی، بحرین نے ایران سے مذاکرات سے کنارہ کشی اختیار کی
مسقط/صلالہ، 14 ستمبر (ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں نئے سمندری راستے کے حوالے سے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مجوزہ علاقائی اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ عمان کے صلالہ میں ہونے والے اس اجلاس سے قبل بحرین نے ایران کے ساتھ اجتماعی وزارتی سطح کے مذاکرات میں ش
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولیہ


مسقط/صلالہ، 14 ستمبر (ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں نئے سمندری راستے کے حوالے سے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مجوزہ علاقائی اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ عمان کے صلالہ میں ہونے والے اس اجلاس سے قبل بحرین نے ایران کے ساتھ اجتماعی وزارتی سطح کے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا، جس کے بعد مسقط نے اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولیہ کے مطابق، عمان کی وزارت خارجہ نے اتوار کی دیر رات کہا کہ اجلاس کو ’’تعمیری مذاکرات کے لیے موزوں ماحول‘‘ پیدا کرنے کے مقصد سے آئندہ تاریخ تک ملتوی کیا گیا ہے۔ تاہم، اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ علاقائی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے اجلاس ملتوی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمان ایسے مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، جو خطے میں استحکام اور طویل مدتی تعاون کو مضبوط کریں۔ اجلاس ملتوی کیے جانے سے قبل بحرین نے ایران کے ساتھ مجوزہ اجتماعی وزارتی سطح کے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ بحرین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونے تک منامہ ایران کے ساتھ ایسے کسی اجتماعی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

قابل ذکر ہے کہ مجوزہ اجلاس میں بحرین، ایران، عراق، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر، سعودی عرب اور کویت کی شرکت متوقع تھی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اجلاس کا مرکزی ایجنڈا، بلکہ واحد ایجنڈا، آبنائے ہرمز میں نئے سمندری راستے کا انتظام ہے۔

عراقچی کے مطابق، ایران اور عمان نے نئے سمندری راستے کا تعین کرنے والے ایک معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ دونوں ممالک نے اس راستے کے نقشے اور آپریشنل انتظامات کی تفصیلات پر مشتمل ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مترادف نہیں ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی اور بحری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان اس بحری راستے کی سلامتی اور آمدورفت کے حوالے سے خلیجی ممالک کی تشویش بڑھ گئی ہے۔

ایران نے اس سے قبل بحرین میں امریکی فوجی اڈوں سے منسلک سمجھے جانے والے بعض مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔ ان میں عیسیٰ ایئر بیس بھی شامل ہے۔ تہران نے ان حملوں کو ایرانی تنصیبات پر امریکی حملوں کا ردعمل قرار دیا تھا۔

اس صورتحال میں بحرین کا ایران کے ساتھ اجتماعی مذاکرات سے دور رہنا اور اس کے بعد عمان کی جانب سے اجلاس ملتوی کیا جانا علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

فی الحال، عمان نے اجلاس کی نئی تاریخ یا اسے ملتوی کرنے کی کسی خاص وجہ کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande