ڈوٹا کے سابق صدر آدتیہ نارائن مشرا کئی ماہرین تعلیم کے ساتھ کانگریس میں شامل
نئی دہلی، 14 ستمبر(ہ س)۔ دہلی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (ڈی یو ٹی اے) کے تین بار صدر رہ چکے ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا سمیت کئی ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے پیر کو کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب میں دہلی پردیش ک
کانگریس


نئی دہلی، 14 ستمبر(ہ س)۔ دہلی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (ڈی یو ٹی اے) کے تین بار صدر رہ چکے ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا سمیت کئی ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے پیر کو کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب میں دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے انچارج قاضی نظام الدین، ریاستی صدر دیویندر یادو اور پارٹی کے درج فہرست ذاتوں کے محکمے کے قومی صدر راجندر پال گوتم نے رسمی طور پر پٹکا پہنا کر سب کو پارٹی میں شامل کیا۔ کانگریس میں شامل ہونے کے بعد ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا نے کہا کہ وہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کانگریس میں آئے ہیں۔ راہل گاندھی اعلی تعلیمی اداروں اور عوامی تعلیمی نظام پر منظم حملوں کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ وہ سرکاری مالی اعانت سے چلنے والے تعلیمی اداروں کو بچانے اور تمام طبقوں کے لیے سماجی انصاف اور تعلیم میں مساوات کو یقینی بنانے کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے بھی آئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک بھر میں ہزاروں پرائمری اور سیکنڈری اسکول بند کیے جا رہے ہیں اور اب اعلی تعلیم بھی اسی سنگین بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔نئے اراکین کا خیر مقدم کرتے ہوئے راجندر پال گوتم نے کہا کہ ڈاکٹر مشرا اور ان کے ساتھیوں نے آئین، جمہوریت اور عوامی تعلیم کو بچانے کے عزم کے ساتھ یہ قدم اٹھایا ہے۔ گوتم نے الزام لگایا کہ دہلی یونیورسٹی میں حکمران نظریے سے متعلق پروگراموں پر بہت زیادہ رقم خرچ کی جا رہی ہے، جبکہ اتنی ہی رقم طلبا کے لیے ہاسٹل اور بنیادی سہولیات کی تعمیر کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی۔ تعلیم کو اتنا مہنگا بنا دیا گیا ہے کہ عام اور غریب خاندانوں کے لیے اعلی تعلیم تک رسائی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا کا طویل تعلیمی اور تنظیمی تجربہ نوجوانوں اور طلباءکو صحیح سمت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی دہلی کے ریاستی انچارج قاضی نظام الدین نے کہا کہ آج طلباءاور اساتذہ کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر لاٹھیاں کھانی پڑرہی ہیں اور تھانوں کے چکر لگانا پڑرہا ہے۔ ایسے دور میں روشن خیال ماہرین تعلیم کا کانگریس کے ساتھ شامل ہونا نظریاتی طور پر تعلیم کے حق کی لڑائی کو مزید مضبوط کرے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande